.

حلب کے اطراف میں تمام علاقوں پر اسدی رجیم کا کنٹرول بحال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری فوج نے حلب شہر کے مغربی علاقوں سمیت شہر کےاطراف میں تمام اہم مقامات پر سنہ 2011ء کے بعد پہلی بار اپنا کنٹرول ایک بار پھر قائم کرلیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌نیٹ کے مطابق شامی رجیم کی وفادار فوج نے حلب کے اطراف میں تمام قصبوں اور دیہات پر اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کرلیا ہے۔ سنہ 2011ء میں اس علاقے میں ہونے والے مظاہروں اور مسلح تحریک کے نتیجے میں شامی فوج کو پسپا ہونا پڑا تھا۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے'سیرین آبزر ویٹری' کےڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ اسد رجیم کی فوج اور اس کے وفادار جنگجو حلب کے نواحی علاقوں حریتان، عندان، کفر حمرہ، جمعیہ الکھربا، جمیعہ آذار، تل النبی نعمان،، جمعیہ الفنار، جمعیہ الزھراء، الیرمون،بشقاتین، بیت غازی، الھوتہ، قیلون، جمیعہ الاتحاد العربی، جمیعہ المحاربین اور دیگر علاقوں میں داخل ہوگئے گئے اور وہاں سے اپوزیشن کے حامی جنگجو نکل گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر اسد رجیم کی وفادار فوج نے حلب کے اطراف میں 30 دیہات پرقبضہ کرلیا ہے۔ حلب شہر اور اسدی فوج کےزیرکنٹرول علاقوں کے درمیان اب چند ایک علاقے باقی رہ گئے ہیں۔ شامی فوج نے ڈرامائی انداز میں‌پیش قدمی کرتے ہوئے حلب کے قریب اہم علاقوں کفر حمرہ، حریتان اور عندان پربھی اپنا قبضہ دوبارہ قائم کرلیا ہے۔

رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ شامی فوج جلد ہی حلب کے جنوب اور مغرب میں 95 مقامات پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔

رامی عبدالرحمان نے العربیہ اور الحدث چینلوں‌سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس اور ترکی کے درمیان طے پائے معاہدے میں بھی حلب کے اطراف کے علاقوں کو شامی حکومت کے حوالے کرنے پر بات کی گئی تھی۔ اس معاہدے کے بعد حزب اللہ اور دوسرے اسد نواز جنگجوئوں‌نے پیش قدمی کرتے ہوئے حلب کے اطراف میں کئی مقامات کا کنٹرول سنھبال لیا تھا۔

حلب میں شامی فوج کی تازہ پیش قدمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دو روز قبل کفرلوسین گذرگاہ سے ترکی کے 70 ٹینکوں ، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر جنگی آلات اور فوج پر مشتمل ایک قافلہ شام میں داخل ہوا تھا۔