.

جنوبی لبنان کے بعد ایران کے شہر اہواز میں قاسم سلیمانی کا مجسمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے عرب اکثریتی علاقے اہواز (صوبہ خوزستان) میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے مقتول سربراہ قاسم سلیمانی کا ایک مجسمہ نصب کیا ہے۔ اس سے قبل حزب اللہ تنظیم نے لبنان کے جنوبی قصبے مارون الراس میں سلیمانی کا ایک مجمسہ نصب کیا تھا۔ حزب اللہ کے اس اقدام کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اہواز میں سلیمانی کے مجسمے کی تنصیب پر بعض ایرانی سرگرم کارکنان کی جانب سے نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے گذشتہ نومبر میں ایران بھر میں عوامی احتجاجی لہر کو کچلنے میں پاسداران انقلاب کے کردار کی یاد دہانی کرائی ہے۔ اس کریک ڈاؤن کے دوران سیکڑوں مظاہرین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اہواز کے میئر موسی شاعری نے پیر کے روز قاسم سلیمانی کے مجسمے کی نقاب کشائی کے موقع پر کہا کہ یہ اقدام سلیمانی کی اُن قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے سلسلے میں ہے جو اس ایرانی کمانڈر نے عراق ایران جنگ کے دوران اہواز شہر کے لیے پیش کیں۔ میئر کے مطابق اہواز شہر کی ایک سڑک کو عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ ابو مہدی تین جنوری کو بغداد ہوائی اڈے کے اطراف امریکی فضائی حملے میں قاسلم سلیمانی کے ساتھ مارا گیا تھا۔

یاد رہے کہ حزب اللہ نے ہفتے کے روز لبنان کے جنوب میں شیعہ اکثریتی قصبے مارون الراس میں سلیمانی کا ایک مجسمہ نصب کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس اقدام کو وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

مارون الراس کے اطراف واقع مسیحی اکثریتی قصبے دبل کے میئر ایلی لوقا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "بہتر ہوتا کہ جس پارک میں سلیمانی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے اُس کا نام "ایران پارک" کے بجائے لبنان پارک یا مارون الراس پارک ہوتا!"