.

ڈنمارک کی فوج عراق میں عین الاسد کے اڈے پر واپس آ جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈنمارک کی خاتون وزیر دفاع ٹرائن بریمسن نے اعلان کیا ہے کہ ڈنمارک کی فوج یکم مارچ کو عراق میں عین الاسد کے فوجی اڈے پر واپس آ جائے گی۔ سیکورٹی اندیشوں کے سبب گذشتہ ماہ ڈنمارک کی فوج کا کچھ حصہ عارضی طور پر کویت منتقل کر دیا گیا تھا۔

ڈنمارک کی فوج داعش کے خلاف لڑنے والے بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت کے سلسلے میں عین الاسد کے اڈے پر تعینات تھی۔

ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈیرکسن نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ڈنمارک کے اکثر فوجیوں کو عراق میں عین الاسد کے فوجی اڈے سے کویت منتقل کر دیا جائے گا۔

ڈنمارک کے اخبار کوپن ہیگن پوسٹ کے مطابق خاتون وزیردفاع کا کہنا تھا کہ "ہمارے فوجیوں کی سلامتی ہماری انتہائی ترجیحات میں سے ہے۔ ہم نے عراق میں اپنے فوجیوں کے ایک گروپ کے انخلا کا فیصلہ کیا ہے۔ اہم بات یہ باور کرانا ہے کہ یہ ایک عارضی اقدام ہے"۔

مذکورہ اخبار کے مطابق عین الاسد کے فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے بعد ڈنمارک کے 100 سے 133 فوجیوں کو وہاں سے ہٹا لیا جائے گا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان صورت حال بہتر ہونے تک عین الاسد کے اڈے پر 30 سے 40 ڈینش فوجی باقی رہیں گے۔

رواں سال تین جنوری کو بغداد کے ہوائی اڈے کے اطراف امریکی فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ،،، ایران نے عراق کے صوبوں الانبار اور اربیل میں امریکی فوجی اڈوں کو 22 میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔