.

خامنہ ای نے 7 ہزار امیدواروں کو انتخابات میں شرکت سے محروم کیا : پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام آزادانہ اور شفاف انتخابات کے مستحق ہیں۔ پومپیو نے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے 7 زہار ایرانیوں کو پارلیمانی انتخابات میں نامزدگی کے حق سے محروم کیا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایرانی حکمراں نظام کو شفاف انتخابات اور اصلاح پسند امیدواروں سے خوف لاحق ہے۔

امریکا نے گذشتہ روز جمعرات کو ایرانی شوری نگہبان کے ذمے دراران پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اس اقدام کا سبب انتخابات میں دھاندلی ہے جس کو ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی برائن ہُک ایک "سیاسی تھیٹر" قرار دے چکے ہیں۔

امریکا نے جن 5 ایرانی شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں ان میں ایرانی شوری نگہبان کے سربراہ احمد جنتی شامل ہیں۔

ان کے علاوہ دیگر شخصیات میں ایرانی مجلس خبرگان رہبری کے رکن محمد يزدی، عباس علی کدخادائی، شورہ نگہبان کے رکن سیامک رہ پیک اور حسن صداغی مقدم شامل ہیں۔

پانچوں ایرانی شخصیات کے ناموں کا اعلان جمعرات کے روز امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری یادداشت میں کیا گیا۔

امریکی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ایرانی ذمے داران کی سرزنش اس واسطے کی گئی ہے کہ وہ آزادانہ اور شفاف انتخابات کے اجرا کو روک رہے ہیں۔

ایران میں پارلیمانی انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہموں کا سرکاری طور پر اختتام پولنگ سے ایک روز قبل جمعرات کے روز ہو گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2018 میں ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی اور تہران پر دوبارہ سے پابندیاں عائد کرنے کے بعد ایران میں یہ پہلے انتخابات ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات میں شرکت کا تناسب اس بات کو متاثر کرے گا کہ ایرانی رائے دہندگان سیاسی اور اقتصادی بحرانات سے نمٹنے کے سلسلے میں ایرانی قیادت کے طریقہ کار سے کس حد تک راضی اور مطمئن ہیں۔ دوسری جانب ایران کو بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی اور اندرون ملک اقتصادی مسائل کے سبب عوام کی خفگی اور غصے کا سامنا ہے۔

ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای ووٹ دینے کو "مذہبی فریضہ" قرار دے چکے ہیں۔ تاہم ایران میں اصلاح پسندوں کے بعض نمایاں سیاست دانوں اور بیرون ملک سماجی کارکنان نے انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔