.

ایرانی انتخابات: پولنگ کے اوقات میں 5 بار توسیع کے باوجود ووٹروں کی عدم دل چسپی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جمعے کے روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے موقع پر سرکاری طور پر ووٹرز کے لیے پولنگ مراکز کے دروازے رات 12 بجے بند کیے گئے۔

ایرانی نیوز ایجنسیوں فارس اور تسنیم کے مطابق پولنگ کا مقررہ وقت شام 6 بجے تک کا تھا۔ تاہم اس کو کم از کم پانچ مرتبہ مزید بڑھایا گیا۔

رائٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق تہران میں انتخابات کے نتائج میں پاسداران انقلاب کے امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔ اپوزیشن گروپوں نے تصدیق کی ہے کہ انتخابات کے موقع پر ووٹرز کی دل چسپی اور توجہ کا تناسب بہت کمزور رہا بلکہ یہ کئی برسوں کے لحاظ سے ادنی ترین سطح پر تھا۔

ایرانی اپوزیشن تنظیم "مجاہدینِ خلق" نے ہفتے کے روز ایک بیان میں بتایا کہ 31 صوبوں میں ہزاروں انتخابی حلقوں سے موصول ہونے والی رپورٹوں کے مطابق انتخابات میں ایرانی عوام کی جانب سے وسیع پیمانے پر بائیکاٹ دیکھنے میں آیا۔ عوام نے اسے انتخابات کا ناٹک قرار دیا ہے۔

انتخابی کمیشن کے سربراہ جمال عرف کے مطابق جمعے کی سہ پہر 3 بجے تک (پولنگ کے آغاز کے 7 گھنٹے بعد) 1.1 کروڑ افراد نے رائے شماری میں حصہ لیا تھا۔ جمال کا کہنا ہے کہ یہ رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 5.8 کروڑ کا 19 فی صد ہے۔

ایرانی حکام نے توقع ظاہر کی تھی کہ اس مرتبہ ووٹرز کے ٹرن آؤٹ 50 فی صد کے قریب رہے گا۔ اس سے قبل 2016 اور 2012 میں یہ تناسب بالترتیب 62 اور 66 فی صد رہا۔

یاد رہے کہ مبصرین نے پہلے ہی اس غالب گمان کا اظہار کیا تھا کہ چوں کہ ووٹرز کی زیادہ تعداد نوجوانوں اور خواتین پر مشتمل ہے لہذا ان میں اکثریت کے ناراض ہونے کے سبب اس مرتبہ ووٹنگ کا تناسب کم رہے گا۔ ایرانی نوجوان اور خواتین ملک میں بے روزگاری اور افراطِ زر کی بلند شرح اور شخصی آزادی پر قدغنوں کے سبب چراغ پا ہیں۔

البتہ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے حامی سخت گیر عناصر پیش قدمی کی راہ پر گامزن ہیں۔ اس لیے کہ شوری نگہبان نے اعتدال پسند شخصیات اور نمایاں قدامت پسند امیدواروں کو اجتماعی طور پر انتخابات میں حصہ لینے سے دور کر دیا تھا۔