.

عراق میں نئی حکومت کی تشکیل معلّق، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے بیچ اختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آ رہا ہے کہ عراق میں نامزد وزیراعظم محمد علاوی کی جانب سے تشکیل دی گئی حکومت کا انجام ابھی تک غیر واضح ہے. بلکہ پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے درمیان تنازع کے سائے میں اس حوالے سے ابہام بڑھتا جا رہا ہے۔

عراقی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حسن العکبی کی جانب سے باور کرایا گیا کہ علاوی کی حکومت پر اعتماد سے متعلق رائے شماری کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس آئندہ پیر کے روز ہو گا۔ تاہم پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی نے اجلاس کے لیے کسی بھی تاریخ اور وقت کے تعین کی تردید کر دی۔

الحلبوسی نے واضح کیا کہ وزارتی پلان اور وزراء کے ناموں کی وصولی سے قبل ووٹنگ کے لیے خصوصی اجلاس کی تاریخ مقرر نہیں کی جا سکی، ابھی تک یہ دونوں چیزیں ہمیں موصول نہیں ہوئی ہیں۔ ان دونوں چیزوں کے ملتے ہی اجلاس کے انعقاد کے اقدامات مکمل کر لیے جائیں گے۔

الحلبوسی کے مطابق کسی بھی حکومت کی تشکیل کا مقصد بحران سے نکلنا ہے۔ ہم کسی ایسی حکومت کی خواہش نہیں رکھتے جو سماجی امن کے لیے خطرہ بن جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نامزد وزیراعظم کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کی تاریخ متعین کرنے کے سلسلے میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی ہے۔ آئندہ حکومت کے اہداف میں امن کو یقینی بنانا، ریاست کی رِٹ واپس لانا اور قبل از وقت انتخابات کرانا اہم ترین ہے۔

عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مظاہرین کے مطالبات پورے کیے جانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران عراق میں کافی خون ریزی دیکھی گئی ہے، اب سیاسی قوتوں کی جانب سے مظاہرین کے مطالبات پورے کیے جانے کے حوالے سے واضح موقف سامنے آنا چاہیے۔

یاد رہے کہ محمد الحلبوسی کی سربراہی میں سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں محمد توفیق علاوی کی حکومت کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔ اس لیے کہ اسے ملک میں عوامی تحریک کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

دوسری جانب بغداد میں کردستان ریجن کے مذاکراتی وفد کے سربراہ ہوشیار زیباری نے پیر کے روز مذکورہ اجلاس کے انقعاد کو خارج از امکان قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بات چیت ابھی جاری ہے۔

عراق میں مظاہرین نامزد وزیراعظم محمد توفیق علاوی کو مسترد کر چکے ہیں۔ مظاہرین کا موقف ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کے آدمی ہیں۔ اسی طرح علاوی اس سے قبل وزارت مواصلات کا قلم دان سنبھال چکے ہیں۔ علاوی نے پارلیمنٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کو اعتماد کا ووٹ دینے کے لیے خصوصی اجلاس آئندہ پیر کے روز منعقد کیا جائے۔

دوسری جانب مظاہرین اس موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ سیاسی جماعتوں سے دور رہ کر ایک آزاد اور خود مختار حکومت تشکیل دی جائے اور قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں۔