.

شام کے صوبہ ادلب میں جاری بحران پر غور کے لیے 5مارچ کو چارملکی سربراہ اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ وہ پانچ مارچ کو روسی صدر (ولادی میر) پوتین ، جرمن چانسلر (اینجیلا) میرکل اور فرانسیسی صدر (عمانوایل) ماکروں سے ملاقات کریں گے اور ان سے شام کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں جاری بحران کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کی باغیوں کے زیر قبضہ اس صوبہ پر دوبارہ کنٹرول کے لیے حالیہ مہینوں میں چڑھائی کے بعد کم سے کم دس لاکھ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔شام میں گذشتہ نو سال سے جاری لڑائی کے دوران میں اتنے کم عرصہ میں پہلے کبھی اتنی زیادہ تعداد میں لوگ بے گھر نہیں ہوئے ہیں۔

صدر ایردوآن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ’’میں نے ادلب کے بارے میں اپنے عزم سے ولادی میر پوتین کو گذشتہ روز آگاہ کردیا ہے۔میں نے اینجیلا میرکل اور عمانوایل ماکروں سے بھی اس حوالے سے بات کی ہے۔پانچ مارچ کو ہم پوتین ، ماکرون اور میرکل سے ملاقات کریں گے اور اس موضوع پر دوبارہ بات چیت کریں گے۔‘‘

جرمنی اور فرانس کے لیڈروں نے جمعہ کو ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد ادلب میں بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور وہاں جاری تنازع کے خاتمے کی ضرورت پر زوردیا تھا جبکہ کریملن نے یہ کہا تھا کہ وہ چار فریقی سربراہ اجلاس بلانے پر غور کررہا ہے۔

جرمن چانسلر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ اینجیلا میرکل اور فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے صدر پوتین کو بتایا تھا کہ وہ ان سے اور صدر ایردوآن سے ملاقات چاہتے ہیں تاکہ شام میں جاری بحران کا خاتمہ کیا جاسکے۔

انھوں نے ادلب میں جاری لڑائی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا تھا اور جنگ زدہ ملک میں ضرورت مند افراد کو بلا روک ٹوک انسانی امداد تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

یادرہے کہ شام میں 2011ء سے جاری لڑائی کے دوران میں تین لاکھ 80 افراد مارے جاچکے ہیں اور چالیس لاکھ کے لگ بھگ بے گھر ہوئے ہیں۔ ان میں کی ایک کثیر تعداد ترکی سمیت پڑوسی ممالک میں مہاجر کیمپوں میں رہ رہی ہے۔