.

مصر : ختنے سے بچی کی موت پر والد اور ڈاکٹر کے خلاف قانونی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں جنرل پراسیکیوٹر حماد الصاوی نے حکم جاری کیا ہے کہ ختنے کی کارروائی سے فوت ہو جانے والی بچی کے والد اور متعلقہ ڈاکٹر کو فوج داری کی عدالت میں پیش کیا جائے۔

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر نے مصر کے صوبے اسیوط میں منفلوط شہر سے تعلق رکھنے والی 9 سالہ بچی ندی کا ختنے کا آپریشن کیا۔

بچی کے والد نے ڈاکٹر علی عبد الفضیل کے ساتھ اتفاق رائے سے بچی 29 جنوری کو بچی کا ختنے کا آپریشن کروا دیا۔ مصری معاشرے میں بچیوں کے ختنے کا رواج پھیلا ہوا ہے تاہم ملکی قانون کے مطابق یہ جرم ہے۔

اٹارنی جنرل کے بیان کے مطابق ختنے کا آپریشن آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد یہ بچی بے ہوشی کی حالت میں آپریشن تھیٹر سے باہر لائی گئی۔ کچھ دیر بعد اس کے منہ اور ناک سے خون آنے لگا۔ اس پر ڈاکٹر بچی کو دوبارہ سے آپریشن تھیٹر میں لے گیا اور کچھ دیر بعد ندی دم توڑ گئی۔

ڈاکٹر نے استغاثہ کے سامنے دیے گئے بیان میں بتایا کہ بچی کی موت اسے طویل المیعاد پینسلین کا انجیکشن لگائے جانے کے سبب ہوئی۔ اس کے نتیجے میں بچی کو الرجی ہو گئی جس سے اس کا دم گھٹ گیا اور وہ فوت ہو گئی۔

مصر میں قومی کونسل نے بچیوں کے ختنے سے متعلق سزا کے قانون کے آرٹیکل میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔ مطالبے میں زور دیا گیا ہے کہ قانون کے متن سے "بنا طبی جواز" کی عبارت حذف کر دی جائے۔ اس لیے کہ مذکورہ جرم کا ارتکاب کرنے والے اس عبارت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

قومی کونسل اور جامعہ الازہر اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ بچیوں اور خواتین کا ختنہ سماجی طور پر نقصان پہنچانے والے رواجوں میں سے ہے۔ اس کا شریعت میں صحیح سند یا معتبر ذریعے سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔