.

جدہ کی شاہراہ 'قابل' اقتصادی 'تنوع' کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے اقتصادی، تجارتی اور سیاحتی مرکز جدہ کی شاہراہ 'قابل' کو اس علاقے کا مینا بازار بھی کہا جاتا ہے۔ شاہراہ قابل ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر اقتصادی تنوع کے سارے رنگ جمع ہیں۔ یہ سڑک ایک ایسے اقتصادی فن پارے میں تبدیل ہوچکی ہے جہاں پر ہر شخص کو اپنی ضرورت اور پسند کی کوئی بھی چیز آسانی مل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہراہ قابل کو جدہ کی اقتصادی شریان بھی کہا جاتا ہے۔ بازار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کئی کئی مارکیٹیں ہیں۔ بازار کا آغاز ایک طرف سے ہیرے جواہرات اور جیولری کی دکانوں سے ہوتا ہے جب کہ دوسرے کونے پر کھابوں اور پکوانوں کے مرکز ہیں جہاں پرنہ صرف مقامی بلکہ غیرملکی لذیذ پکوان بھی دستیاب ہیں۔ بازار میں ملبوسات اور کپڑوں کی دکانیں، الیکٹرانکس مارکیٹ اور کئی دوسری مارکیٹیں موجود ہیں۔

شاہراہ قابل کی کاسمیٹکس بھی دکانیں اور وہاں سےملنے والا مال معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ قیمت میں بھی مناسب ہے جب کہ بچوں کے کھلونوں کی دکانیں بھی گاہکوں کی خاص توجہ کا مرکز رہتی ہیں۔

شاہراہ قابل بازار کے تنوع کی وجہ سے بعض لوگ اسے 'بے ہنگھم' قرار دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ شاہراہ قابل بازار جدہ کے اہم ترین تجارتی مراکزمیں سے ایک ہے۔ یہاں کی دکانوں ہونے والی سالانہ خریداری کے منافع کا حجم سالانہ 30 لاکھ ریال تک پہنچ جاتا ہے۔

شاہراہ قابل کا آغاز بیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں ہوا۔ یہ بازار سلیمان قابل نے شریف مکہ علی بن الحسین سے خرید کیا۔ اس کے بعد اسے ایک باقاعدہ بازار کی شکل دی اور اسے 'قابل' کا نام دیا گیا۔

شاہراہ قابل اپنی تزویراتی اہمیت کی کے اعتبارسے بھی جدہ میں اہم مقام ہے۔ تاریخی شہر جدہ کی سیر کرنے والے کسی بھی سیاح کو وہاں تک جانے کے لیے مشرق میں شاہراہ النوریہ، مغرب میں باب البنط، وسط میں الخاسکیہ بازار اور جنوب میں شاہراہ قابل سے ہوکر گذرنا پڑتا ہے۔

جدہ گورنری کے ترجمان محدم البقمی نے بتایا کہ جدہ ڈویلپمنٹ منصوبے میں شاہراہ قابل کی تعمیر وترقی بھی شامل ہے جب کہ مجموعی طورپر جدہ کی ڈویلپمنٹ کے لیے 57 ملین ریال کی رقم مختص کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرانا حج روٹ شاہراہ قابل کے قریب سے ہو کر گذرتا تھا۔