.

ایرانی ذمے داران کرونا سے متعلق حقائق چُھپا رہے ہیں : قُم کے طبی اہل کار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے شہر قُم میں ایک ہسپتال میں کام کرنے والے Male Nurse نے ایرانی ذمے داران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس اور اس سے ہونے والی اموات کے حوالے سے حقائق چھپا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے وڈیو کلپ میں نظر آنے والا نوجوان ایران کے شہر قُم میں کمکار ہسپتال میں بطور نرس کام کرتا ہے۔ اس نے انکشاف کیا کہ گذشتہ رات کے دوران چند گھنٹوں میں کرونا کے 8 مریض فوت ہوئے اور وہ ان اموات کا عینی شاہد ہے۔ نوجوان کے مطابق نائٹ ڈیوٹی کی شفٹ کے دوران ایک رات میں موت کا شکار ہونے والے افراد میں ایک 23 سالہ لڑکی بھی شامل ہے۔ اس لڑکی کو سابقہ کوئی بیماری لاحق نہیں تھی۔

اس نے مزید بتایا کہ مرنے والوں میں 28 سے 30 سال کے درمیان کے دو نوجوان اور ایک خاتون بھی شامل ہے جس کی عمر پچاس برس سے کم تھی۔

مرد نرس نے بتایا کہ "اس خاتون نے اپنی موت سے آدھا گھنٹہ قبل مجھے سے بات کی اور وہ انتہائی درد اور تکلیف کا شکار تھی۔

نوجوان نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ "ایک رات میں 8 مریض مر گئے ،،، یہ ذمے داران کب تک اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر پردہ ڈالتے رہیں گے ،،، یہ لوگ کب تک اس سنگین مرض کے ساتھ مضحکہ خیز طور سے نمٹیں گے"۔

یاد رہے کہ ایران میں 19 فروری کو کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک 19 افراد اس وائرس کے سبب موت کے منہ میں جا چکے ہیں جب کہ ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 140 کے قریب ہے۔ ان سرکاری اعداد و شمار کا اعلان ایرانی وزارت صحت نے بدھ کے روز کیا۔

البتہ سماجی کارکنان کی ایک بڑی تعداد اور بعض ارکان پارلیمنٹ نے ان سرکاری اعداد و شمار کو مشکوک قرار دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔