.

ایران : کرونا وائرس کے سبب مذہبی مقامات پر قیود عائد ، نماز جمعہ کا اجتماع معطّل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی اندرون ملک نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پابندی اُن افراد پر بھی لاگو ہو گی جن کے اس وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ ہے۔ اسی طرح "مذہبی مقامات" کے حامل شہر بالخصوص قُم میں قیود عائد کی گئی ہیں اور یہاں عارضی طور پر نماز جمعہ کے اجتماعات روک دیے گئے ہیں۔

ایرانی ٹیلی وژن نے بدھ کی شب بتایا کہ اس بات کا اعلان وزیر صحت سعید نمکی نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ نمکی نے واضح کیا کہ لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت والے کئی شہروں میں ٹیموں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ ان ٹٰیموں کے عناصر وہاں لوگوں کے جسموں کے درجہ حرارت جانچیں گے .. اور وائرس میں مبتلا یا مشتبہ طور پر اس سے متاثرہ افراد کو روک دیا جائے گا۔

ایرانی وزیر صحت نے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سفر سے گریز کریں۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی شہر میں مشتبہ طور پر کرونا وائرس سے متاثرہ شخص کو 14 روز تک طبی قید میں تنہا رکھا جائے گا۔

ایرانی وزیر نے متعدد شہروں بالخصوص قُم میں "مذہبی مقامات" پر عوامی اجتماعات پر پابندی کا بھی اعلان کیا ہے۔ قُم شہر کو ایران میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا گڑھ شمار کیا جا رہا ہے۔

مذکورہ مذہبی مقامات اور عبادت خانوں میں آنے والوں کو داخلے سے قبل ہاتھ دھونے کے لیے جراثیم سے پاک مواد، حفاظتی ماسک اور کرونا وائرس کے بارے میں موزوں معلومات فراہم کی جائے گی۔ نماز کے بعد لوگوں کو اکٹھا ہونے سے روک دیا گیا ہے اور فوری طور پر کوچ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وائرس سے متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کی بندش میں مزید تین روز کی توسیع کر دی گئی ہے جب کہ جامعات میں یہ دورانیہ ایک ہفتے کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ مذکورہ مقامات پر کچھ عرصے کے لیے نماز جمعہ کے اجتماع کو روک دیا گیا ہے۔ صورت حال کے حوالے سے ان اقدامات میں سختی یا نرمی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ ایران میں 19 فروری کو کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک 19 افراد اس وائرس کے سبب موت کے منہ میں جا چکے ہیں جب کہ ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 140 کے قریب ہے۔ ان سرکاری اعداد و شمار کا اعلان ایرانی وزارت صحت نے بدھ کے روز کیا۔