پراسرار حالات میں موت کا شکار ہونے والی لبنانی لڑکی کی ماں کیا کہتی ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

"میں روزانہ ہزار بار مرتی ہوں ... مذہب کہاں ہے اور ساری دنیا کہاں ہے ؟ ان لوگوں نے مایا کی قبر کے گرد باڑ کیوں لگا دی ؟ کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مجھے اس پر رونے سے بھی محروم کر دیں جیسا کہ انہوں نے مجھے مایا کو دیکھنے سے محروم کر ڈالا ؟"...

ان الفاظ کے ساتھ لبنانی خاتون لینا جابر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ گفتگو کی جو اپنی بیٹی اور جگر کے ٹکڑے مایا کی موت پر ٹوٹے دل کا شکار ہے۔ لینا کی 14 سالہ بیٹی مایا تقریبا دو ماہ قبل دسمبر میں پراسرار طور پر گولی لگنے سے فوت ہو گئی تھی۔ اسے گھر کے باغیچے میں دفن کر دیا گیا اور اس کی قبر کے اطراف باڑ لگا دی گئی۔ اس طرح لینا اپنی بیٹی کی قبر پر آنسو بہانے سے بھی محروم ہو گئی۔

بدھ کے روز لینا جابر کی ایک وڈیو وائرل ہوئی جس نے سوشل میڈیا پر لبنانی حلقوں کو چراغ پا کر دیا۔ وڈیو میں لینا اپنی بیٹی کی قبر کے اطراف لگی باڑ کے پیچھے کھڑی فریاد کر رہی ہے۔

مایا کی ماں لینا جابر کا تعلق لبنان کے جنوب میں صور کے قصبے السماعیہ سے ہے۔ لینا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس کی اپنے شوہر اور مایا کے باپ سے 31 ماہ قبل علاحدگی ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے مایا کے باپ نے لینا کو اس کی بیٹی سے ملاقات کرنے سے روک دیا تھا۔ اس نے مایا کے فون کی نگرانی شروع کر دی تا کہ وہ اپنی ماں سے بات نہ کر سکے۔ اس وقت مایا کی عمر 12 برس تھی۔ تاہم بعد ازاں لینا نے اپنے شوہر کو اس بات پر قائل کر لیا کہ وہ مایا اور اس کے 16 سالہ بھائی محمد کی دیکھ بھال کے لیے لینا کو گھر میں رہنے کی اجازت دے۔

یہ سلسلہ جاری رہا تاہم سات ماہ قبل لینا کے شوہر نے اسے اپنے گھر سے نکال دیا اور بچوں سے بھی محروم کر دیا۔ مایا کے باپ نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک وڈیو جاری کی جس میں یہ ظاہر کیا گیا کہ مایا کی قبر کے اطراف کوئی باڑ نہیں ہے۔ لینا نے اس حوالے سے بتایا کہ مایا کی قبر کے اطراف باڑ موجود تھی جس کو عوامی حلقوں کی جانب سے شور مچانے کے سبب دو روز قبل ہٹایا گیا ہے۔

لینا نے شکوہ کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ مردوں کے اس معاشرے میں ہم عورتوں کے ساتھ اس برتاؤ کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا ؟ مرد اور عورت کے مساوات کا اطلاق کب ہو گا ؟

واضح رہے کہ لبنان میں ہر فرقے کے ذاتی احوال سے متعلق اپنے قوانین ہیں۔ فقہ جعفریہ کی عدالت اپنی فیصلے اس قانون کی بنیاد پر کرتی ہے جس میں ماں کی سرپرستی میں دینے کے لیے بچوں کی عمریں لڑے اور لڑکی کے لیے بالترتیب 2 اور 7 برس ہے۔

سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے صور شہر میں فقہ جعفریہ کی عدالت کے سامنے دھرنا دیا جا رہا ہے۔ اس دھرنے کو "ماؤں پر سے ظلم ختم کرو" کا نام دیا گیا ہے۔ کل ہفتے کے روز بھی شیعہ سپریم اسلامی کونسل کی عمارت کے سامنے اسی نوعیت کے دھرنے کی کال دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں