ایران میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں 210، کیا ایران حقائق چُھپا رہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں کرونا وائرس پھیلنے کے حوالے سے سرکاری سطح پر آنے والے اعداد و شمار غیر سرکاری اعدادو شمار سے بالکل مختلف ہیں۔ لندن سے بی بی سی فارسی سروس نے بتایا ہے کہ ایران میں کرونا وائرس سے اب تک 210 افراد ہلاک ہوچکے ہیں لیکن ایرانی حکومت کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی اصل تعداد چھپا رہی ہے۔ ادھر تہران بلدیہ کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 15 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

فارسی چینل نے جمعہ کی شام ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران میں کرونا کے نتیجے میں دارالحکومت تہران میں 100 اور قُم میں 80 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دریں اثنا ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور نے بی بی سی کی اس رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارسی چینل نے تہران میں ان تمام افراد کی موت کو کرونا کا نتیجہ قرار دیا ہے جو کہ سانس کی دوسری بیماریوں کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تہران میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ کرونا سے ہلاک نہیں ہوئے۔ فارسی چینل کی رپورٹ کے اعداد و شمار غلط ہیں۔ جمعہ کے روز ایرانی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ ایران میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 34 ہوگئی ہے جب کہ 338 افراد میں اس وائرس کی موجودگی کی تشخیص کی گئی ہے۔

ایرانی لیبر ایجنسی 'النا' نے تہران میونسپل کونسل میں سیفٹی کمیٹی کے سربراہ ناہید خدا کرمی کے حوالے سے بتایا ہے کہ امکان ہے کہ کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار سے 15 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
خداکرمی نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ مُمکن ہے کہ 10،000 سے 15،000 شہری پہلے ہی وائرس کا شکار ہو چکے ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ تعداد مایوس کن معلوم ہوسکتی ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جنہیں اس کے شکار ہونے کا علم نہ ہو۔

شمالی ایران کے شہر رشت شہر کے رکن پارلیمنٹ غلام علی جعفرزادہ ایمن آبادی نے کہا کہ ایران میں کرونا کے مریضوں کی حقیقی اموات سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

انہوں ںے حکومت پر زور دیا کہ وہ ملک میں کرونا وائرس کے متاثرین کی اصل تعداد ظاہر کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کرونا کے متاثرین کی تعداد چھپا سکتے ہیں مگر آپ قبروں کو نہیں چھپا سکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں