.

ایران کے 05 پارلیمنٹرینز کی حالت کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد تشویشناک ہو گئی

تہران نے کرونا سے ہلاکتوں کے غیر سرکاری بیانات کو جھوٹ قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والے ایک رکن پارلیمنٹ محمد علی رمضانی چند روز تک زندگی موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد گذشتہ روز انتقال کر گئے تھے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق کرونا کا شکار ہونے والے پانچ دوسرے ارکان پارلیمنٹ اور نائب صدر کی حالت بھی تشویشناک ہے۔

ادھر دوسری طرف ایرانی حکومت نے غیر سرکاری ذرائع ابلاغ میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق اعداد وشمار کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران میں کرونا وائرس کے نتیجے میں صرف 34 افراد کی اموات واقع ہوئی ہیں۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کرونا سے متاثرہ رکن پارلیمنٹ محمد علی رمضانی انتقال کرگئے ہیں جب کہ ایکپیڈنسی کونسل کے رکن محمد میر محمدی اس وقت کوما میں ہیں۔

ایکسپیڈینسی اتھارٹی کے ایک رکن فرید الدین حداد عادل ابن غلام علی حداد عادل جو کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے برادر نسبتی ہیں کے کرونا کا شکار ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے سابق وزیر انصاف مصطفیٰ بورمحمدی بھی کرونا کی لپیٹ میں ہیں۔ بور محمدی پر سنہ 1988ء کو انقلاب مخالف قیدیوں کو اجتماعی طور پر موت کےگھاٹ اتارنے میں ملوث قرار دیا جاتا ہے۔

ایران میں کرونا کے پھیلائو اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کے بارے میں سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع ابلاغ میں غیرمعمولی فرق بیان کیا جا رہا ہے۔ قم شہر کی ایک میڈیکل یونیورسٹی کے سیکرٹری علی ابرازہ نے بتایا کہ کامکار، فرقانی، امام الرضا اور علی بن ابی طالب اسپتالوں میں کرونا کے 652 مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔