.

ادلب میں ملبے سے جنگجوؤں کی لاشیں نکالنے کے لیے حزب اللہ ترکی کے توسّط کی خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ادلب کے جنوب اور مشرق میں لڑائی کے محاذوں پر گھمسان کی لڑائی دیکھی گئی۔ اس میں ایک جانب ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپ تھے اور دوسری جانب شامی حکومت کی فوج اور کے شانہ بشانہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ رہی۔

گذشتہ دور روز کے دوران حزب اللہ ملیشیا کو بھاری جانی نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کے 9 سے زیادہ جنگجو مارے گئے جن میں زیادہ تر کی تعداد پندرہ برس سے کم تھی۔ ان کے علاوہ متعدد ارکان زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک شدگان کے ایک حصے کو گذشتہ روز لبنان میں ان کے قصبوں میں دفنا دیا گیا۔

گذشتہ برسوں کے دوران حزب اللہ کے سینئر جنگجو شام کی جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ان افراد کی تربیت پر کافی اخراجات ہوئے تھے۔ لہذا حزب اللہ کے سامنے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ ایسے نوجوانوں کو لڑائی کے محاذوں پر بھیجے جو مطلوبہ عسکری تجربہ نہیں رکھتے۔

معلومات کے مطابق حزب اللہ ملیشیا کو شام کے شہر سراقب کے نزدیک طلحیہ کے علاقے میں گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔ لڑائی کی شدت کے سبب حزب اللہ طلحیہ کے علاقے سے نو جنگجوؤں کے سوا کسی رکن کی لاش نہیں نکال سکی۔ اس کے سبب حزب اللہ لبنانی جنرل سیکورٹی کے ڈائریکٹر میجر جنرل عباس ابراہیم سے یہ درخواست کرنے پر مجبور ہو گئی کہ وہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کی لاشیں نکالنے کے لیے تُرکوں کے ساتھ وساطت انجام دیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی معلومات کے مطابق میجر جنرل عباس ابراہیم کے حزب اللہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہین۔ وہ ترکی میں موجود تھے جہاں انہوں نے استنبول میں ترکی کی انٹیلی جنس کے سربراہ ہاقان فیدان کے ساتھ ملاقات کی۔ ملاقات میں طلیحہ کے علاقے سے حزب اللہ کے ہلاک شدگان کی لاشیں نکالنے کے طریقہ کار پر بات چیت ہوئی۔ لبنانی عہدے دار کے دورے کا مرکزی مقصد تُرکوں کے توسط سے سراقب کے نزدیک واقع علاقے طلیحہ میں بم باری کو رکوانا تھا تا کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کی لاشیں اٹھائی جا سکیں۔

معلومات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لبنانی جنرل سیکورٹی کے ڈائریکٹر نے ترک عہدے داران کے ساتھ بات چیت میں ادلب شہر کے جنوب اور مشرق میں ترکی کی فوج اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے کا موضوع بھی زیر بحث آیا۔ حزب اللہ ملیشیا ترکی کی فورسز کے ساتھ مزید کشیدگی نہیں چاہتی ہے۔

معلومات کے مطابق ہفتے کے روز ایرانی صدر حسن روحانی اور ان کے تُرک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ اس دوران جارحیت کا سلسلہ روکنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔