.

حوثی ملیشیا نے جنگ میں جھونکنے کے لیے مزید بچے اغواء کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے ملک کی وسطی گورنری ذمار جھران اور میفعہ عنس ڈاریکٹوریٹ سے مزید 10 بچوں کو جنگ میں جھونکنے کے لیے اغواء کرلیا ہے۔ بچوں کو ان کے خاندان کے علم میں لائے بغیر جنگ میں جھونکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

یمنی نیوز ویب سائٹس نے اطلاع دی ہے کہ حوثی ملیشیا سے وابستہ ایک گروپ جس کی سربراہی احمد لقمان (ابو الزہرا) اور عبدالعزیز الھمدانی کر رہے ہیں نے جھران ڈاریکٹوریٹ کے صنعہ گائوں سے پانچ بچوں کو اغواکے بعد نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا۔ ان بچوں کو جنگ میں جھونکنے کے لیے اغواء کیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اغواء ہونے والے بچوں کی شناخت 13 سالہ شعیب احمد مہاجر ،12 سالہ شعیب عبداللہ جعدان،12 سالہ ناجی زیدان الوجیہ،14 سالہ ناصر الھمدانی اور 14 سالہ حافظ محمد حسن المجاھد کے ناموں سے کی گئی ہے۔

اسی گورنری میں واقع میفعہ عنس حوثی ملیشیا نے پانچ بچوں کو اغواء کیا جس کے بعد انہیں جنگ میں جھونکنے کے لیے نامعلوم مقامات پر متنقل کیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ میفعہ عنس سے یرغمال بنائےگئے بچوں کی شناخت 14 سالہ رماح غازی عبد اللہ محمد ، 15 سالہ احمد صلاح محمد اللذع ،13 سالہ علی محسن محمد، 13 سالہ حمید حامد احمد اور 14 سالہ جواد بشیر قدیم کے ناموں سے کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان پانچ بچوں کے اغوا کے ذمہ داری حوثی کمانڈروں احمد علی الحماطی (ابو عامر) ، عادل مطہر ، اور یحیی عبدالوہاب الدیلمی (ابو علی) پرعاید کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فروری کے آخری ہفتے میں حوثی ملیشیا نے ذمار گورنری کے مختلف علاقوں سے کم سے کم 39 بچوں کو جنگی مقاصد کے لیے اغواء کیا جب کہ فروری کے تیسرے ہفتے میں اس گورنری سے 17 بچوں کو اغواء کیا گیا تھا۔