لیبیا میں جنرل حفتر کی فوج نے وفاق حکومت کی ملیشیاؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جیل کے قیدیوں کے ساتھ ان کی آزادی پر سودے بازی کر کے انہیں بطور جنگجو لڑؑائی کے لیے بھرتی کر رہی ہے۔
لیبیا کی فوج کی جنرل کمان کے سرکاری ترجمان احمد المسماری نے پیر کی صبح اپنے فیس بک پیج پر جاری بیان میں بتایا کہ ایندھن کے اسمگلر معروف دہشت گرد اسامہ جویلی کو دیکھا گیا ہے کہ وہ جیل کے قیدیوں اور سزا یافتہ مجرموں کو لیبیا کی فوج کے خلاف لڑنے کے لیے بھرتی کیا جا رہا ہے۔ مذکورہ افراد قتل اور چوری کے مقدمات میں ملوث ہیں۔ جویلی نے ان افراد سے آزادی اور ان کی سزا میں کمی کے وعدے کیے ہیں۔
لیبیا کی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے دارالحکومت طرابلس کے جنوب میں واقع علاقے العزیزیہ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ پیش رفت وفاق حکومت کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد سامنے آئی۔ آئندہ دنوں میں فریقین کے درمیان جارحیت میں اضافے کی توقع ہے۔ اس طرح جنگ بندی برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی کوششیں سبوتاژ ہوتی نظر آ رہی ہیں۔
جمعے کے روز دارالحکومت طرابلس کے اکثر محاذوں پر لیبیا کی فوج اور وفاق حکومت کی فورسز کے درمیان پھر سے شدید جھڑپیں شروع ہونے کے بعد جنگ بندی سرکاری طور پر ختم ہو گئی۔ ان جھڑپوں کے دوران میزائلوں اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال ہوا۔
ادھر لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ نے جمعے کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران لیبیا میں جنگ بندی ختم ہونے کے نتائج سے خبردار کیا۔ انہوں نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ لیبیا کا تنازع بیرونی فریقوں کی مداخلت کے ساتھ علاقائی جنگ کی صورت اختیار کر لے گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران اقوام متحدہ لیبیا میں متحارب فریقوں کو بات چیت میں شرکت کے لیے قائل کرنے میں ناکام ہو گئی۔ اس بات چیت کے حوالے سے امید تھی کہ اس کے ذریعے لیبیا کے بحران سے نکلنے کا ایسا پر امن راستہ مل سکے گا جو غیر ملکی مداخلتوں اور فوجی حل سے دور ہو۔