.

کرونا وائرس کو چیلنج، ایران میں مزارات کو بوسہ دینے اور چاٹنے کے ناقابل یقین مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جہاں ایک طرف کرونا وائرس لوگوں میں موت بانٹ رہا ہے اور دوسری طرف مشہد اور قم جیسے شہروں میں موجود مذہبی شخصیات کے مزارات پرآنے والے زائرین کی جانب سے ان مزاروں کی دیواریں چاٹنے اور انہیں بوسہ دینے کی ناقابل یقین سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ مزارات کو بوسے دینے اور انہیں چاٹنے والوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اس طرح کرونا کو چیلنج کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایسی متعدد ویڈیوز اور تصاویر موجود ہیں جن میں زائرین کو مزارات میں بے پرواہی کے ساتھ ان کی دیواروں کی بوسہ بازی کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک شخص کو فارسی میں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ میں نے سنا ہے کہ اس مزار سے وائرس پھیل سکتا ہے۔ ایک شخص کو یہاں سے کرونا وائرس لاحق ہوا کیونکہ اس نے اسے چھوا تھا۔ مگر اس مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ یہ مقدس مقام ہے اور یہاں سے اگر مجھے کرونا وائرس لگتا ہے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ اس طرح کے واقعات دوسرے لوگوں کو بھی مزارات میں جانے اور اس طرح کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔

خیال رہے کہ ایران کےمذہبی مرکزقم میں ایرانی حکومت اور علماء کی طرف سے زائرین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ یہاں پر آتے جاتے سخت حفاظتی تدابیر اختیار کریں کیونکہ قم میں کرونا وائرس کے نتیجے میں کئی افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

تہران حکومت نے کرونا سے متاثرہ مقامات میں جمعہ کے اجتماعات منسوخ کردیے ہیں۔

مزید برآں ایرانی حکام نے کرونا کے متاثرین یا جن کے متاثر ہونے کا شبہ ہے کے اندرون ملک سفر پرپابندی عاید کردی ہے۔

ایرانی وزیر صحت سعید نمکی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم کرونا کے متاثرین کو قرنطینہ منتقل کرنے کے بجائے ان کے اندرو ملک نقل مکانی پرپابندی عاید کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی مزید کہاکہ بہت سے مصروف شہروں کے داخلی راستوں پر ٹیمیں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ طریقہ کار مزید تفصیلات کے بغیر نافذ العمل ہے۔

مسٹر نمکی کا کہنا تھا کہ میں لوگوں سے سفر نہ کرنے کو کہتا ہوں۔ اگر کہیں بھی کوئی کرونا کا مشکوک شخص ملا تو اسے 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

کرونا وائرس کے شبے میں قم اور مشہد میں کئی مزارات میں داخلے پر پابندی عاید کی گئی ہے۔