.

حماس کی درخواست پرمصرکی کرونا سے نمٹنے میں مدد کی یقین دہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

'العربیہ' نیوز چینل کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' نے مصری حکومت سے غزہ کی پٹی میں کرونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کے لیے طبی امداد کی درخواست کی ہے۔ مصر نے حماس کی درخواست قبول کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں اپنے طبی ماہرین اور ضروری ادویات فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قاہرہ جلد ہی غزہ کی پٹی کو طبی سامان، طبی عملہ اور ماسک فراہم کرے گا۔

مصر نے حماس کی قیادت سے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی وجہ سے اپنے ارکان کو ایران کے سفر سے روکے۔ دوسری طرف حماس نے مصر سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو غزہ کی پٹی پر چڑھائی سے روکنے کے لیے تل ابیب پر دبائو ڈالے۔

خیال رہے کہ فلسطینی نیشنل اتھارٹی کی طرف سے چند روز قبل کہا گیا تھا کہ فلسطین میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تاہم جنوبی کوریا کے ایک وفد کے فلسطینی اراضی کے دورے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ اس وفد میں شامل نو افراد کرونا وائرس کا شکار تھے۔

فلسطینی حکومت نے جنوبی کوریا کے وفد کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی اطلاعات ملنے کے بعد ایسے تمام ریستوران اور دیگر تنصیبات بند کردی تھیں جہاں پر وہ وفد گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ جس شخص نے جنوبی کوریا کے وفد کو قریب سے دیکھا، اس سے ملاقات کی، تقریبا پندرہ منٹ تک دو میٹر تک ان کے قریب رہا وہ اپنا طبی معائنہ کرائے۔

فلسطینی حکام نے کرونا سے متاثرہ ممالک چین، جنوبی کوریا، سنگا پور، ہانگ کانگ، ماکو، ایران، عراق اور لبنان کا وزٹ کرنے والوں کو فلسطین میں داخلے سے روک دیا تھا۔