.

خطے کے سب سے بڑے خواتین ڈرائیونگ اسکول نے سعودی عرب میں کام شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی شہر الاحساء میں خواتین کی ڈرائیونگ کے لیے ایک نئے ڈرائیونگ اسکول کا افتتاح کیا گیا ہے۔ یہ اسکول اپنی نوعیت کا نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خطے کا سب سے بڑا ڈرائیونگ اسکول ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی صوبے کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف کی سرپرستی میں الاحساء خواتین کی ڈرائیونگ اکیڈمی کے نام اسکول قائم کیا گیا ہے۔ گذشتہ روز اس اسکول کی افتتاحی تقریب میں الاحساء کے گورنر شہزادہ بن جلوی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

ڈرائیونگ اسکول کی عمارت 3،500 مربع میٹرپر تعمیر کی گئی ہے جبکہ ڈرائیونگ کی تربیت کے لیے 50،000 مربع میٹر کی جگہ مختص ہے۔ اس اکیڈمی کے ذریعہ فراہم کردہ سہولیات میں 115 گاڑیاں، 11 انٹرایکٹیو سیمولیٹرز ہیں جو الاحساء میں ڈرائیونگ کے حقیقی منظر ناموں کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پانچ سمارٹ کلاس رومز، ڈے کیئر سسٹم، کلینک ، آن لائن ٹیسٹ روم، کانفرنس روم اور کال سینٹر بھی شامل ہیں۔

ڈرائیونگ اسکول کو سمارٹ ماحول اور اس میں شامل جدید اور انٹرایکٹو ٹکنالوجی سے آراستہ کیا گیا ہے۔ یہ اکیڈمی مملکت کا واحد مرکز ہے جس کے تمام انتظامات 100 فی صد سرکاری ملازمین چلا رہے ہیں اور اسے سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کی معاونت حاصل ہے۔

"آرامکو" کے صدر انجینیر امین الناصر نے کہا ٓکہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کے تاریخی اعلان میں لاکھوں خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھولنے کی خاطر صنف نازک کو ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی ہے۔ اس تاریخی فیصلے کے مملکت کی معیشت اور ترقی پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ کہ خواتین کی ڈرائیونگ کے لیے قائم کردہ یہ اسکول ٹھوس اور مثبت اثرات مرتب کرے گا اور اس سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خواتین ڈرائیونگ اسکول اپنے حجم، معیار اور سمارٹ ٹکنالوجی کے استعمال کے لحاظ سے مملکت اور مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا اور سب سے بڑا مرکز ہوگا۔ اس ادارے سے ڈرائیونگ کی تربیت پانے والی خواتین بہترین اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل ڈرائیور کا درجہ دیا جائے گا۔ اس اسکول سے 10 سال میں دو لاکھ خواتین ڈرائیونگ کی مہارت حاصل کرسکیں گی۔

اس ڈرائیونگ اسکول میں 250 سے زائد سعودی خواتین ملازمین بطور تربیت کار اور لیکچرر کام کرتی ہیں۔ توقع ہے کہ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی کے آخر تک ان کی تعداد 300 ہو جائے گی۔

خواتین تربیت دینے والوں کے پاس وہی نصاب ہے جو ظہران کے آرامکو ڈرائیونگ اسکول نے پیش کیا ہے۔ ظہران میں کمپنی کے ذریعہ قائم کیا جانے والا پہلا ڈرائیونگ ایجوکیشن سنٹر ہے۔