.

امارات کا چین سے عرب باشندوں کو نکالنے میں تعاون، انسانی ہمدردی شہر میں طبی نگہداشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے چین کے شہر ووہان سے عرب باشندوں کو نکالنے کے عمل میں معاونت کی ۔ وہاں سے نکالے جانے والوں کو عرب امارات میں قائم امارات انسانی ہمدردی شہر میں لایا جا رہا ہے اور ان کی صحت اور حفاظت یقینی بنانے کیلئے انہیں طبی تشخیص و معائنے کے عمل سے گزارا جائے گا –

عرب باشندوں کیلئے یہ کا اقدام صدر عزت مآب شیخ خلیفہ بن زاید النھیان اور ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر عزت مآب شیخ محمد بن زاید ال نھیان کی اس ہدایت کے بعد کیا جارہا ہے جس کے تحت ایک ایسی صحت سہولت کا قیام عمل میں لایا جانا ہے جہاں قریبی عرب ممالک کے ان باشندوں کو ضروری طبی حفاظتی نگہداشت میں رکھا جانا ہے جنہیں کووڈ 19 کے پھیلاؤ والے مرکز چین کے شہر ووہان سے نکالا جارہا ہے – اس سسلسلے میں 215 افراد کو لانے والے ایک خصوصی طیارے کا بندوبست کیا گیا ہے جو کہ ایچ ای پی اے کیبن ایئر فلٹریشن سسٹمز ، میڈیکل سپلائیز سے لیس اور طبی حفاظتی عملہ اور خصوصی تربیت یافتہ کیبن کریو پر مشتمل ہے ۔

امارات انسانی ہمدردی شہر کو طبی نگہداشت کے اعلی ترین معیار کے مطابق بنایا گیا ہے جہاں زیر علاج افراد کی نجی زندگی اور وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انکی طبی نگہداشت کی جاتی ہے – وہاں آنے والے افراد 14 روزہ قرنطینہ قیام کریں گے جس کے دوران ان کے ضروری میڈیکل ٹیسٹ اور لبیارٹری ٹیسٹ ہونگے اور انکی صحت سے متعلق مکمل نگہداشت رکھی جائے گی-

عرب امارات کی وزارت خارجہ و بین الاقوامی تعاون اور چین میں عرب امارات کے سفارتخانہ نے نکالے جانے والے عرب باشندوں کے متعلقہ ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا ہوا ہے جبکہ دوسری جانب وائرس کی روک تھام کی کوششوں کو موثر بنانے کیلئے عرب امارات ، چین کی حکومت کے ساتھ بھی تعاون کو بڑھا رہا ہے –

اس موقع پر ابو ظبی کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان نے چین سے واپس لائے گئے شہریوں کے لیے دل کو چھو لینے والا پیغام جاری کیا ہے۔ چین سے آنے والے احمد ورقیہ اور یاسر وجدان کو بھیجے گئے پیغامات میں ابو ظبی کے ولی عہد نےان کے ساتھ گہری ہمدردی اور شفقت کا اظہار کیا ہے۔

اپنے پیغام میں محمد بن زاید آل نھیان نے لکھا ہے کہ 'میرے بیٹے مجھے بہ خوبی اندازہ ہے کہ چین میں مشکلات سے دوچار ہونے کے بعد وہاں سے نکلنے اور اپنے محفوظ گھر تک لانے میں تمہیں کتنی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ مشکل ایک غیر متوقع بحران کا نتیجہ تھی جس نے نہ صرف چین بلکہ پوری دنیا کو پانی لیپٹ میں لے رکھا ہے۔ چین سے نکالنے کے بعد امارات پہنچنے پر میں آپ کو ذاتی طور پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اب تم اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ ہنسی خوشی رہو گے۔ آپ ہمارے معزز مہمان ہو، آپ کو ہرقسم کی طبی سہولت فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ آپ کے سفر محفوظ طریقے سے وطن واپسی کے ایک ایک لمحے میں ہماری نظر آپ پر رہی ہے'۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سرکاری طور پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ چین سے لائے گئے شہریوں کو 14 دن تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ ابو ظبی کے ولی عہد نے کہا ہے کہ وہ چین سے لائے گئے شہریوں کے معاملے کو وہ ذاتی طور پر خود ہی دیکھیں گے۔

الشیخ محمد بن زاید نے اپنے ٹویٹر کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا کہ چین کے شہر ہوبی میں پھنسے اماراتی اور دوسرے پڑوسی ملکوں کے شہریوں کی واپسی کے معاملے کو میں خود ذاتی طور پر دیکھ رہا ہوں۔ شہریوں نے چین سے بہ حفاظت واپسی ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم امارات اور دوسرے ممالک کے شہریوں کی ان کے ملکوں تک پہنچانے میں ہر ممکن مدد کریں گے۔

چین سے اماراتی شہریوں اور دوسرے ممالک کے باشندوں کو باہر نکالنے میں مدد فراہم کرنے پر بیجنگ کی حکومت نے ابو ظبی کے حکام کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔