.

کرونا وائرس کے باعث خلیجی ممالک کی ایک تہائی کمپنیاں کیا کرنے جا رہی ہیں؟

'جی سی سی' کی 1600 کمپنیاں نئے ورک پلان کی تیاری میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین سے سامنے آنے والے کرونا وائرس نے پوری دنیا میں نظام زندگی اور کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کرونا وائرس کے مسلسل بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر خلیجی ممالک کی کاروباری کمپنیوں نے ایک نیا ورک پلان تیار کرنے پر کام شروع کیا ہے جس کے تحت ایک تہائی کمپنیوں کے مینجرز اور دیگر ملازمین دفافتر اور ورکنگ سائٹس کے بجائے اپنے گھروں میں رہ کام کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ساتھ خلیج میں کام کرنے والی کاروباری کمپنیوں کو اپنے کام کا طریقہ کار تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ایک تہائی کمپنیوں کے منیجرز نے اپنے آدھے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کرنے کی منصوبہ بندی شروع کی ہے۔ اس پروگرام پر مجموعی طورپر 1600 خلیجی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

اس سروے پر مشتمل رپورٹ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہوئی ہے جس میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ کرونا کے باعث خلیج میں کام کرنے والی 35 فیصد کمپنیوں کے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔

مہلک کرونا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لئے 6 فیصد کے بارے میں ابھی گھر سے ہی کام کا منصوبہ شروع کردیا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں مزید پانچ اور اس کے بعد مزید 12 فی صد ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی تاکید کی جائےگی۔

سروے میں حصہ لینے والے 54 فی صد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ ان کا ابھی تک دور سے کام کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جبکہ ان کی 11 فیصد کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ یقینی طور پر ملازمین کے گھر سے کام کرنے کے امکان پر غور نہیں کریں گی۔

خطے کے ممالک میں بحرین میں 38 فیصد کمپنیوں میں ریموٹ ایکشن پلان کی سب سے زیادہ شرح ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت میں 37 فی صد کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ ملازمین کو کچھ عرصے کے لیے گھر سے کام کرنے پر زور دیں گی۔ تیس فی صد کمپنیوں نے گھر سے کام کرنے کے منصوبوں کا اشارہ کیا جبکہ سلطنت عمان کی 18 فی صد کمپنیوں نے ملازمین کو گھروں میں رکھنے کی حمایت کی ہے۔

چونکہ خطے کی بیشتر کمپنیوں کے لیے ملازمین کا گھروں سے کام کرنا ایک نیا تصور ہے۔ اس سروے میں پتا چلا ہے کہ ان میں سے بیشتر ملازمین کو گھروں میں تعینات کی تنظیمی اور تکنیکی پہلوئوں سے تیاری کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ملٹی نیشنلز کمپنیوں نے سروے کیا ہے جس میں ملازمین کی ایک بڑی تعداد گھروں سے کام کرنے پر رضامند دکھائی دیتی ہے۔