.

کرونا کے پیشِ نظر امارات کا شہریوں اور مقیمین سے بیرونی سفر سے گریز کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں صحت اور سماجی تحفظ کی وزارت نے شہریوں اور غیر ملکی مقیمین پر زور دیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی موجودہ صورت حال کے پیشِ نظر سفر سے گریز کریں۔

اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزارت صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر سفر کر لیا گیا ہے تو بیرون ملک سے واپسی پر حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں ہوائی اڈوں پر طبی معائنے کی خصوصی ٹیمیں موجود ہیں۔ کرونا سے متاثر ہونے کی تصدیق تک اسے گھر میں طبی قید میں رکھا جائے گا۔ وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی صورت میں طبی مراکز میں مریض کو علاحدہ اور لوگوں سے الگ تھلگ رکھا جائے گا۔ اس دوران دیگر افراد کے ساتھ اختلاط کی اجازت ہر گز نہیں ہو گی۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دنیا بھر میں ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد سے متحدہ عرب امارات نے عالمی معیار کے مطابق احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ اسی سلسلے میں کرونا وائرس سے متاثرہ پانچوں افراد کو بہترین طبی نہگداشت فراہم کرنے کے نتیجے میں تمام مریض شفایاب ہو چکے ہیں۔

دنیا بھر میں کرونا کے پھیل جانے کے وقت سے ہی امارات میں صحت کے سیکٹر نے تمام مطلوبہ اقدامات کو یقینی بنایا۔ مزید یہ کہ طبی لوازمات اور اعلی اہلیت رکھنے والے تربیت یافتہ طبی اہل کار فراہم کیے گئے۔ اس حوالے سے اہم ترین اقدامات میں حکومتی اور نجی سیکٹروں میں صحت کے مراکز اور طبی تنصیبات کے علاوہ دیگر سیکٹروں مثلا تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں کرونا وائرس سے متعلق میڈیکل گائیڈ کی فراہمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے تمام ہسپتالوں میں طبی قید میں رکھنے کے لیے الگ تھلگ کمروں کا انتظام اور امارات میں تمام فضائی ، زمینی اور سمندری سرحدی راستوں پر درجہ حرارت کا انکشاف کرنے والی مشینوں کی تنصیب بھی نمایاں ترین اقدام ہے۔

کرونا وائرس کے نمودار ہونے کے بعد سے متحدہ عرب امارات میں 30 ہزار سے زیادہ افراد کے معائنے ہو چکے ہیں۔ اس دوران مشتبہ افراد کو فوری طور پر علاحدہ رکھا گیا یہاں تک کہ ان کے معائنے کے تفصیلی نتائج سامنے آ گئے۔

امارات میں صحت کے سیکٹر کی سپورٹ کے لیے ملک کے دیگر سیکٹروں نے بھی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی اور احتیاطی اقدامات کیے۔ وزارت تعلیم نے موسم بہار کی تعطیلات کا اعلان کر دیا اور طلبہ کی صحت کو فوقتیت دیتے ہوئے فاصلاتی تعلیم کے طریقہ کار کو لاگو کیا۔ مزید برآں یہ واضح کیا گیا کہ جو طلبہ اور تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے افراد بیرون ملک سفر سے آئیں ، ان پر لازم ہے کہ وہ اپنا مطلوبہ طبی معائنہ کرائیں اور 14 روز تک اپنے گھروں میں طبی قید کی مدت کو پورا کریں۔ اس طرح ان کے اس مرض سے متاثر نہ ہونے کی تصدیق ہو سکے گی۔ اس کے بغیر مذکورہ افراد کو تعلیمی اداروں میں داخل ہونے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔

اسی طرح وزارت تعلیم نے اسکولوں کے سربراہان اور ذمے داران کو کرونا وائرس سے نمٹنے کے طریقہ کار کی تربیت دی۔ اس سلسلے میں آگاہی کے لیے مختلف علاقوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کو تعلیمی اسباق دیے گئے۔ مزید برآں 4 ہزار سرپرستوں کو کرونا وائرس کے حوالے سے آگاہی مہم میں شریک کیا گیا۔

وزارت تعلیم کے اقدامات کے تحت 600 سے زیادہ اسکولوں اور 3000 سے زیادہ اسکول بسوں کو جراثیم سے پاک کیا گیا۔ اس کا مقصد تعلیمی اداروں میں طلبہ اور کام کرنے والوں کو صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔