.

بحیرہ عرب میں آئل ٹینکر پر حملے میں ایران ملوث ہے: یمن کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت نے بحیرہ عرب میں خلیج عدن کی طرف سفر کرنے والے ایک تیل بردار جہاز پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس حملے پرایران کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

یمنی حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ عرب میں آئل ٹینکر پر حملے کے پیچھے ایرانی پاسداران انقلاب کی سازش ہے۔

یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے کہا کہ حوثی ملیشیا کے ذریعہ کئے گئے دہشت گردانہ حملے میں بحیرہ عرب میں تیل کے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں چار ریمورٹ کنٹرول کشتیاں استعمال کی گئیں تاہم عرب اتحادی فوج نےایران کی مدد سے کی گئی دہشت گردی اور تخریب کاری کی یہ کوشش ناکام بنا دی ہے۔ یمنی وزیر نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی مال بردار جہازوں پر ایرانی حملوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ تہران پہلے بھی اس طرح کی تخریبی سرگرمیوں میں پیش پیش رہا ہے۔

یمن کے وزیر اطلاعات نے بحیرہ احمر، آبنائے باب المندب اور خلیج عدن میں دہشت گردی کے حملوں کو ناکام بنانے اور بین الاقوامی آبی گذرگاہوں کی بحالی کے عرب اتحادی فوج کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثٰی باغی نہ صرف یمن بلکہ اس کے پڑوسی اور دوسرے عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

بدھ کے روزیمن کے عرب اتحاد نے اعلان کیا کہ اس نے بحیرہ عرب میں تیل کے ٹینکر کو نشانہ بنانے کی کارروائی ناکام بنا کر دہشت گردی کی سازش ناکام بنا دی۔

اتحادی افواج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ جنوب مشرقی یمن کے "نشطون" بندرگاہ سے 90 ناٹیکل میل کے فاصلے پر بحیرہ عرب میں آئل ٹینکر کو دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔