.

سعودی عرب: ریستورانوں میں ملازمین کی تصاویر لینا اخلاق عامہ کے ضابطے کی خلاف ورزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ریستورانوں یا کیفے خانوں میں اپنے آرڈروں کی وصولی کے دوران وہاں موجود ملازمین اور عملے کی تصویر یا وڈیو بنا لیتے ہیں۔ اس کا مقصد ان لمحات کو سوشل میڈیا پر اپنے متعلقین کے واسطے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنا ہوتا ہے۔

تاہم سعودی عرب میں ستمبر 2019 سے نافذ العمل اخلاق عامہ کے نئے قوانین کے تحت مملکت میں یہ حرکت تصویر بنانے والے کو قانونی طور پر مشکل میں ڈال سکتی ہے۔

اخلاق عامہ سے متعلق سعودی سوسائتی کے ڈائریکٹر جنرل بدر الزیانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے باور کرایا کہ بنا اجازت کسی بھی قسم کی تصویر کشی ضابطہِ اخلاق عامہ کی خلاف ورزی شمار ہو گی۔ اس کے نتیجے میں فعل کا مرتکب قانونی کارروائی کے زمرے میں آئے گا۔

الزیانی نے مزید کہا کہ بنا اجازت تصویر کشی اخلاق عامہ کے ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔ لہذا تصویر سے ضرر اٹھانے والا شخص تصویر لینے والے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ تصویر لینے والا صرف اجازت کے بعد ہی تصویر اتار سکتا ہے۔

اخلاق عامہ کے ضابطے کے آرٹیکل "19" کے مطابق بنا اجازت لیے کسی شخص کی تصویر بنانا یا کسی مجرمانہ کارروائی یا ٹریفک حادثے کی تصویر کشی کا ارتکاب ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔ ایسا کرنے والے کو پہلی مرتبہ 1 ہزار ریال اور دوسری مرتبہ 2 ہزار ریال جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ بنائی گئی تصاویر اور وڈیوز کو بھی حذف کر دینا لازم ہو گا۔