.

موتیوں کی رنگا رنگ مالائیں بنانے والی سعودی ہنرمند ام حسن سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مختلف اشیاء سے مصنوعی موتی نما دانوں سے گلوبند اور ہاروں کی تیاری کا فن ویسے تو پوری دنیا میں کسی نا کسی شکل میں پایا جاتا ہے مگر سعودی عرب میں ایک خاتون نے جس کمال مہارت کے ساتھ اس فن کو زندہ رکھا اس پر وہ بلا شبہ داد کی مستحق ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رنگا رنگ موتیوں سے انواع واقسام کی مالائیں بنانے والی ام حسن المالکی کا تعلق سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے الدائر سے ہے۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ یہاں کے قدرتی پہاڑی ماحول کے حسن کے ساتھ ام حسن کی تیارکردہ مالائوں نے اس علاقے کو ایک نئی شہرت دی ہے۔ وہ بیس سال سے اس فن کو اپنا پسندیدہ مشغلہ بنانے کے ساتھ ساتھ اسی کو ذریعہ معاش بنائے ہوئے ہیں۔

پچین سالہ ام حسن المالکی تین بچوں [ایک بیٹی دو بیٹوں] کی ماں ہیں۔ مالائوں کے فن کے بارے میں العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں دس سال کی عمر میں موتیوں کی مالائیں تیار کرنے کا شوق چرایا۔ اس کے والد مرحوم نے اس کے اس شوق میں اس کی مدد کی۔ مالائیں تیار کرنے کا اس کا فن اتنا مشہور ہوا کہ اس کی تیار کردہ مالائیں مقامی اور مارکیٹ سے ہوتی ہوئی دوسرے شہروں تک جا پہنچی۔

ایک سوال کے جواب میں ام حسن المالکی نے کہا کہ مالائوں کی تیاری اس کا شوق ہی نہیں بلکہ اب ذریعہ معاش بھی بن چکا ہے۔ اس کے اس پیشے کی وجہ سے اس کی بینائی کم زور ہوئی ہے اور وہ اچھے سے نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ ایک پیچیدہ اور بہت احتیاط کا کام ہے اور اس کے لیے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔

اس نے بتایا کہ میرے گاہک پورے ملک میں ہیں۔ جازان سے باہر لوگ ٹیلفیون کرکے مالائوں کے آرڈر دیتے ہیں اور میں ڈاک کے ذریعے ان کی پسند کی مالا انہیں بھیجتی ہوں۔