.

پاسپورٹ پر مہر کے بغیر سعودی شہریوں کا ایران میں داخلہ ، مملکت کی جانب سے مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے سرکاری ذمے دار نے جمعرات کے روز جاری بیان میں ایران کے اس رویے کی مذمت کی ہے جس کے تحت وہ سعودی شہریوں کے پاسپورٹوں پر مہر کے بغیر انہیں ایرانی سرزمین میں داخل کر رہا ہے۔ ذمے دار نے گذشتہ ہفتوں کے دوران ایران سے لوٹنے والے تمام سعودی شہریوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حکام کو اس بات سے آگاہ کریں۔

سعودی وزارت صحت کے مطابق اب تک مملکت میں کرونا وائرس کے 5 کیس سامنے آ چکے ہیں۔ یہ تمام سعودی شہری ایران سے بحرین اور کویت کے راستے مملکت پہنچے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ افراد نے ایران سے لوٹنے پر مملکت میں اپنا کرونا وائرس کا ٹیسٹ اور معائنہ نہیں کرایا تھا۔

سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مذکورہ سعودی ذمے دار کا مزید کہنا تھا کہ پاسپورٹوں پر مہر لگائے بغیر سعودی شہریوں کو اپنی سرزمین میں داخل کرنا ایران کا انتہائی غیر ذمے دارانہ رویہ ہے۔ لہذا ان حالات میں دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی براہ راست ذمے داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔ صحت کے حوالے سے یہ رویہ انسانی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے ... اور یہ کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

سعودی ذمے دار کے مطابق مملکت ایران کا دورہ کرنے والے اپنے تمام شہریوں کی صحت اور سلامتی کی شدید خواہاں ہے۔ اسی واسطے ان افراد کے خلاف کوئی اقدام نہ کرنے کی مہلت دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مذکورہ شہریوں کے پاس 48 گھنٹے ہیں جس کے دوران انہیں حکام کو اپنے ایران سے آنے کے بارے میں آگاہ کرنا لازم ہے۔

ذمے دار نے سعودی شہریوں پر زور دیا کہ وہ ایران کا سفر نہ کریں اور اب کے بعد سے اس فعل کے مرتکب شہریوں کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔

ذمے دار نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اُن سعودی شہریوں کی شناخت کے بارے میں آگاہ کرے جنہوں نے یکم فروری سے اب تک ضابطے کے خلاف ایران کا دورہ کیا۔

سعودی ذمے دار کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس کی سرزمین کا خفیہ دورہ کرنے والے سعودی شہریوں کی شناخت پر مسلسل پردہ ڈالنا ،،، نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری دنیا میں صحت عامہ کے لیے خطرہ ہے۔