.

کرونا وائرس کی روک تھام میں مجرمانہ غفلت پر ایرانی حکومت کو سخت تنقید کا سامنا

کاش کہ ہم قُم میں بر وقت سخت قرنطینہ کا انتظام کر لیتے: ایرانی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک اصلاح پسند رُکن پارلیمنٹ مصطفیٰ کواکبیان نے حکومت کی طرف سے پورے ملک میں کرونا وائرس پھیلنے کے باوجود قم شہر اور مزارات کی حفاظت کے لیے بروقت اقدامات نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ کاش ہم کرونا وائرس پھیلنے سے قبل قم میں قرنطینہ کے اقدامات کر لیتے تو ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔

خبر رساں ایجنسی 'ایسنا' کے مطابق اصلاح پسند جماعت 'مردم سالاری' کے جنرل سیکرٹری مصطفیٰ کواکبیان نے کہا کہ افسوس کہ ہم قم شہر میں کرونا کے پھیلنے کے خطرے کو بروقت بھانپ لیتے۔ ہم نے وہاں پر بروقت سخت قرنطینہ کے انتظامات کیے ہوتے اور مذہبی اجتماعات پرپا بندی لگائی ہوتی۔

خیال رہے کہ ایران کے مذہبی مرکز کہلانے والے 'قم' شہر میں 19 فروری کو کرونا وائرس کے دو کیسز سامنے آئے مگر اس کے باوجود حکومت کی طرف سے وہاں پر کسی قسم کی حفاظتی تدابیر اختیار نہیں کی گئی۔ حکومت کی اس مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی پر دیگر رہ نمائوں اور عوامی حلقوں کی طرف سے بھی شدید تنقید کی گئی۔

تبریز شہر کےایک سینیر رہ نما شہاب الدین بی مقدار نے منگل کے روز نیم سرکاری نیوز ایجنسی"ایلنا" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے کرونا کی روک تھام کے لیے بروقت احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا بہت بڑی غلطی تھی۔ اگر حکومت اور دوسرے متاثرہ علاقوں میں بروقت قرنطینہ کا اعلان کر دیتی یہ وائرس اس تیزی کے ساتھ پورے ملک میں نہ پھیلتا۔

خیال رہے کہ قُم کو ایران کے مذہبی دارالحکومت کا درجہ حاصل ہے۔ اس کی مجموعی آبادی 12 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ایران میں مزارات کی سیاحت کے لیے آنے والی دوسری بڑی تعداد قم میں آتی ہے جن کی تعداد 20 ملین سے زاید ہے۔ ایران میں سالانہ 15 لاکھ زائرین مشہد میں مذہبی مقامات اور مزارات کی سیر کرتی ہے۔ یہ دونوں شہر اس وقت کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہیں۔

ایرانی وزیر صحت کے معاون کیانوش جہاں پور کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس قم سے ایران کے دوسرے علاقوں میں پھیل چکا ہے۔ یہ وائرس ایرانی سرحدوں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ قم اور حوزہ کے طلباء کے ذریعے ہمسایہ ممالک عراق، کویت، عمان، قطر، افغانستان اور بحرین تک پہنچ چکا ہے۔ 24 فروری کو مشہد میں یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے صدر محمد حسین بحرینی نے کہا کہ قم کے دینی مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے 700 چینی طلباء سمیت غیر ملکی سائنس کے طلباء کی ایک بڑی تعداد اس شہر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی ایک وجہ ہے۔