.

امریکیوں کو یرغمال اور حزب اللہ قائم کرنے والا کرونا کے باعث انجام کو پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں کرونا وائرس نے ملک کی اعلیٰ قیادت میں اپنے پنجے گاڑے ہیں۔ حالیہ ایام میں کرونا وائرس کےنتیجے میں جو اہم شخصیات فوت ہوئی ہیں ان میں ایک مشہور شخصیت حسین شیخ الاسلام کےنام سے جانی جاتی ہے۔

حسین شیخ الاسلام ایران کے سابق وزیرخارجہ تھے۔ سنہ 1979ء میں ایران میں برپا ہونے والے ولایت فقیہ کے انقلاب کے وقت نوجوانوں کے جس گروپ نے آیت اللہ خمینی کا ساتھ دیا ان میں حیسن شیخ الاسلام بھی پیش پیش رہے۔ یہاں تک کہ تہران میں امریکی سفارت خانے پرحملے اور امریکی سفارت کاروں کو کئی ماہ تک یرغمال بنائے رکھنے میں بھی شیخ الاسلام کا بنیادی کردار رہا۔ حسین شیخ الاسلام نے تہران میں 52 امریکیوں کو کئی ماہ تک یرغمال بنائے رکھا۔

حسین شیخ الاسلام نے سنہ 1979ء میں ایرانی انقلاب سے قبل امریکا کی کیلیفورنیا کی برکلے یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ ایران میں انقلاب کے وقت ان کی عمر 27 سال تھی۔ ایران واپسی کے بعد وہ انقلابیوں کی یوتھ تنظیم میں شامل ہوا۔ امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولنے والوں میں حسین شیخ الاسلام کے ساتھ ایران کی معاون خصوصی برائے امور خواتین معصومہ ابتکار بھی شامل تھیں۔ اس وقت معصومہ ابتکار خود بھی کرونا کا شکار ہونے کے بعد قرنطینہ منتقل کی گئی ہیں۔

حسین شیخ اسلام کا شمار لبنانی حزب اللہ کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے والی پانچ شخصیات میں ہوتا ہے۔ سنہ 1980ء کی دہائی میں قائم کی جانے والی حزب اللہ کو امریکا سمیت کئی ملکوں نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

فارسی میں نشریات پیش کرنے والے'فردا' ریڈیو کے مطابق شیخ الاسلام نے حزب اللہ کے دوسرے لیڈروں حسین دھقان، احمد وحیدی، فریدون وردی نژاد اور آیت اللہ خمینی کے انتہائی مقرب اور ان کے دست راست علی اکبر محتشمی بور کے ساتھ کام کیا۔ محتشمی سنہ1985ء سے 1989ء تک ایران کے وزیر داخلہ رہے۔

لبنان میں حزب اللہ کے قیام کے ساتھ ہی حسین شیخ الاسلام کو ایران کی وزارت خارجہ میں مشرق وسطیٰ کے شعبے کا انچارج مقرر کیا گیا۔ وہ سنہ 1980ء سے 1996ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔

سنہ 1997ء میں ایران میں صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند محمد خاتمی صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے اپنی حکومت میں شیخ الاسلام کو دمشق میں ایران کا سفیر تعینات کیا۔ اس طرح وہ حزب اللہ کے اور بھی قریب ہوگئے۔

شام میں سفارتی خدمات کے اختتام کے بعد حسین شیخ الاسلام کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ اور فیلق القدس کے سربراہ قاسم سلیمانی کا مشیر مقرر کیا گیا۔ قاسم سلیمانی کو امریکا نے تین جنوری 2020ء کو بغداد میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کردیا تھا۔