.

امریکی پابندیوں کے سبب ایران کے ایک چوتھائی آئل ڈرلنگ پلیٹ فارمز ناکارہ

ایرانی آئل سیکٹر میں 70% ملازمین نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رائٹرز نیوز ایجنسی کے علم میں آنے والی مالی دستاویزات کے مطابق ایران میں تیل کے سیکٹر پر عائد امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایران میں آئل ڈرلنگ کے ایک چوتھائی پلیٹ فارم ناکارہ ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس بات کا قوی امکان ہے کہ ڈرلنگ کی سرگرمیوں میں کمی آنے سے اوپیک تنظیم کے رکن ایران کی پرانی آئل فیلڈز سے تیل کی پیداوار کو نقصان پہنچے گا۔ اس طرح امریکا کے ساتھ کشیدگی کم ہونے کی صورت میں بھی ایران کے لیے تیل کی پیداوار کو بڑھا کر پابندیوں سے قبل کی سطح پر لے جانا بھی دشوار ہو جائے گا۔

امریکی پابندیوں نے ایران کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنی تیل کی پیداوار کو نصف کر دے۔ اس لیے کہ دنیا بھر میں آئل ریفائنریز نے تہران سے تیل کی خریداری کو روک دیا۔

تیل کی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں کمی نے ملک میں کساد بازاری کو شدید تر کر دیا اور ملک کی آمدنی کے مرکزی ذریعے میں رکاوٹ ڈال دی۔

ایران میں تیل کے بعض پلیٹ فارمز مرمت نہ ہونے کے سبب ناکارہ ہیں۔ اس لیے کہ پابندیوں نے ان پلیٹ فارمز کے فاضل پرزہ جات کی خریداری اور ان کی درآمد کے عمل کو دشوار بنا دیا۔

ایران میں پٹرولیم انجینئرز کی سوسائٹی کے ڈائریکٹر محسن مہان دوست کے مطابق پابندیوں کے نتیجے میں فاضل پرزہ جات کے اخراجات کو 5 گُنا کر دیا ہے۔ اس چیز نے ڈرلنگ پلیٹ فارمز کی مرمت کو بے فائدہ بنا دیا۔

متعلقہ صنعت کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے حالیہ عشرے کے دوران چین سے درجنوں جدید اور استعمال شدہ ڈرلنگ پلیٹ فارمز خریدے تاہم ان کے بنیادی اجزاء ابھی تک امریکی ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی کے دفتر کے ترجمان نے ملک کی تیل کی صنعت پر امریکی پابندیوں کے اثرات کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح وائٹ ہاؤس نے بھی کسی قسم کے تبصرے سے انکار کرتے ہوئے رائٹرز نیوز ایجنسی کے سوالات کو وزارت خارجہ کی جانب بڑھا دیے۔

رائٹرز نیوز ایجنسی کو ایران میں تیل کی صنعت اور ڈرلنگ کمپنیوں کے ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق ایران میں 160 کے قریب آئل ڈرلنگ پلیٹ فارمز میں کم از کم 40 پلیٹ فارمز ابھی تک ناکارہ یا زیر مرمت ہیں۔

سال 2019 میں تیل کی صنعت کے ایک ذمے دار نے ایران کی نیوز ایجنسی کو بتایا تھا کہ ایران کی ملکیت میں موجود پلیٹ فارمز میں سے تقریبا 85% کو دیکھ بھال اور مرمت کی ضرورت ہے۔

اس صورت حال کے سبب ایران کی ڈرلنگ کمپنیوں نے بڑی تعداد میں ورکروں کو بھی فارغ کیا۔

نیشنل ڈرلنگ کمپنی نے 2019 میں اپنے ورکروں کی تعداد کم کر کے 2800 کر دی جب کہ سال 2017 میں یہ تعداد 9300 تھی۔ اس طرح کمپنی کے 70% ملازمین اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018 میں ایرانی جوہری معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ایران پر پھر سے پابندیاں عائد کر دیں تا کہ تہران کو اس کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے شدید تر قدغن قبول کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ساتھ ہی ایران کے میزائل پروگرام کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔