.

ملک کو "خفیہ ریاست" چلا رہی ہے، روحانی حکمراں نہیں: ایرانی ڈپٹی اسپیکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران کو ایک "خفیہ ریاست" یعنی ڈارک سٹیٹ چلا رہی ہے۔ اصلاح پسند رکن پارلیمنٹ کا اشارہ ملک کے اندر گہرے رسوخ کی حامل اُس ریاست کی جانب تھا جس کے ہاتھ میں خود مختارانہ فیصلے کرنے کا اختیار ہے۔ یقینا اس سے مراد وہ ریاست نہیں جس کے سربراہ اسلامی جمہوریہ کے صدر ہیں اور جو کابینہ کے ذریعے ملک کے انتظامی امور کے اختیارات کی حامل نظر آتی ہے۔

پزشکیان نے یہ بات بدھ کے روز فارسی زبان کے اخبار "سازندگی" کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے صدر حسن روحانی پر زور دیا کہ وہ حقیقت کا انکشاف کریں۔ پزشکیان کا کہنا تھا کہ "اگر میں حسن روحانی کی جگہ ہوتا تو پہلی فرصت میں پارلیمنٹ میں حاضر ہو کر پوری دیانت اور شفافیت کے ساتھ ہر چیز کے بارے میں بات کرتا ... عوام سب جانتے ہیں ، وہ روزانہ ملک میں اقتصادی، ثقافتی اور اخلاقی بدعنوانی کو پھیلتا ہوا دیکھ رہے ہیں ... ایرانی ثقافت میں اب اقدار باقی نہیں رہیں"۔

ڈپٹی اسپیکر نے زور دے کر کہا کہ "روحانی کو چاہیے کہ وہ عوام کو بتا دیں کہ حکومت میں اختیار ایک گہری ریاست کے ہاتھوں میں ہے ، وہ ہی درحقیقت ملک کو چلا رہی ہے اور اقتدار پر اسی کی اجارہ داری ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بنیاد پرست اور اصلاح پسند" سب ہی اس بدعنوانی اور ناکامی کے ذمے دار ہیں۔ ذمے داری قبول کرنے سے فرار کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ اُن لوگوں سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے جو فیصلہ سازی کے حوالے سے مضبوط مقام رکھتے ہیں ، اُن سے عوام کے مسائل کے بارے میں تحقیقات کی جانی چاہیے"۔

ایران میں یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے حوالے سے پزشکیان نے کہا کہ "جب بھی کسی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو (گہری ریاست کی جانب سے) یہ آوازیں بلند کی گئیں کہ حکومت ملک چلانے کی اہل نہیں۔ ساتھ ہی یہ لوگ انقلاب کی کامیابی کے بعد سے کامیابیوں سے بھرے 40 برس کی بات کرتے ہیں ! اگر اس عرصے میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں تو یقینا یہ ان نا اہل افراد کی مرہون منت ہیں۔ ہمیں اس تضاد کو حل کرنا ہو گا"۔

مسعود پزشکیان اصلاح پسند صدر محمد خاتمی (2 اگست 1997 – 3 اگست 2005) کی حکومت میں وزیر صحت کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "اگرچہ میں وزیر صحت تھا تاہم فیصلوں کے حوالے سے میرے اختیارات دیگر 25 اداروں میں تقسیم تھے۔ دیگر وزارتوں میں بھی یہ ہی صورت حال تھی۔

اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ڈپٹی اسپیکر نے "گہری ریاست" کے حوالے سے کسی شخصیت کا نام نہیں لیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ "اختیارات ایسی شخصیات کے ہاتھوں میں ہیں جن کے سامنے پارلیمنٹ کے ارکان، صدرِ جمہوریہ اور بقیہ تمام حکومتی ارکان کو اپنی آراء کے اظہار کا حق نہیں ہے"۔

مبصرین کے نزدیک ایران کو درپیش اس نازک صورت حال میں ڈپٹی اسپیکر کا بیان ایرانی رہبر اعلی پر الزامات عائد کرنے کے مترادف ہے جو ملک میں تمام حکام سے اعلی درجہ رکھتے ہیں۔

مثلا ایران نظام پر الزام ہے کہ وہ سیاسی اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر پردہ ڈال رہا ہے۔ اس کا مقصد ایرانی انقلاب کی 41 ویں سال گرہ کے حوالے سے تقریبات اور پارلیمانی انتخابات سے فراغت تک وقت حاصل کرنا تھا۔

یہ بات معروف ہے کہ ولیِ فقیہ ہونے کی حیثیت سے ایران میں رہبر اعلی کو حاصل اختیارات تمام حکومتی شہری، عسکری، سیکورٹی اور مذہبی اداروں سے برتر ہیں۔

رہبر اعلی کے دفتر میں عسکری، سیاسی، مالیاتی، مذہبی، ثقافتی اور سیکورٹی ادارے شامل ہیں۔ یہ ادارے ریاستی اداروں سے بالا ہیں اور قانون کے مطابق حقیقی گہری ریاست تشکیل دیتے ہیں۔ اس گہری ریاست کے فیصلے ہی حرفِ آخر ہوتے ہیں تاہم رہبر اعلی کی یہ ریاست کسی پوچھ گچھ کے دائرے میں نہیں آتی۔

ایران کا آئین رہبر اعلی یا "قائدِ معظّم" کو بہت سے اہم اختیارات اور فیصلوں کا حق دیتا ہے۔ ان میں عدلیہ کے سربراہ کا تقرر، مجلسِ تشخیصِ مصلحتِ نظام کے سربراہ او ارکان کا تقرر، شورہ نگہبان کے سربراہ اور نصف ارکان کا تقرر اور مسلح افواج اور پاسداران انقلاب کی قیادت کا انتخاب شامل ہے۔

ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کا اپنا دفتر بھی ہے جس کو "بيتِ قائد" کا نام دیا گیا ہے۔ اس دفتر میں ریاستی اداروں سے مماثلت رکھنے والے حقیقی اور فعّال ادارے شامل ہیں۔