.

کرونا وائرس خامنہ ای کے دفتر بھی پہنچ گیا ، پاسداران انقلاب کا اہم عہدے دار موت کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے سرکاری عہدے داران اور ذمے داران کی فہرست میں تازہ ترین نام محمد جواد ایروانی کا ہے۔ ایروانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے دفتر میں اکاؤنٹس اینڈ کنٹرول کے ذمے دار ہیں۔ وہ تشخیص مصلحت نظام کے کمپلیکس کے رکن بھی ہیں۔ ایرانی نیوز ایجنسی "فارس" کے مطابق ایروانی کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے بدھ کے روز اس مہلک وائرس کو "عالمی وبا" کا درجہ دے دیا۔

مذکورہ نیوز ایجنسی نے بدھ کی شام کرونا سے متاثرہ حکومتی ذمے داران کی فہرست جاری کی۔ ان میں حکومت کے چار وزراء (نائب صدر، خواتین کے امور کے لیے صدر کی مشیر، وزیر صنعت اور وزیر سیاحت) اور پانچ ارکان پارلیمنٹ نمایاں ترین ہیں۔

ادھر ایرانی میڈیا نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے القدس مرکز کے لوجسٹک امور کا نائب کمانڈر محمود پلارک کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر فوت ہو گیا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "فارس" نے صدر حسن روحانی کے نائب اسحاق جہانگیری کے کرونا سے متاثر ہونے کی بھی تصدیق کر دی ہے۔ جہانگیری کی صحت کے حوالے سے کئی روز سے قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ حالیہ عرصے میں منعقد ہونے والے اعلی سطح کے اجلاسوں کی تصاویر میں جہانگیری کہیں نظر نہیں آئے۔

رپورٹوں کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے 20 سے زیادہ ارکان کرونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔

بدھ کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیر جنرل رمضان شریف نے اعلان کیا کہ کرونا وائرس کے سبب پاسداران کے 5 عناصر موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے مذکورہ عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاسداران کے ایک لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ اہل کار اس وقت کرونا وائرس کے انسداد کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔

یران میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 354 ہوگئی ہے۔ یہ تعداد گذشتہ 24 گھنٹے میں مزید 63 افراد کے فوت ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایران میں اس مہلک وائرس کے پھیلنے کے بعد ایک دن میں واقع ہونے والی یہ سب سے زیادہ اموات ہیں۔ ایران کی وزارتِ صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ لیبارٹری کے نئے نتائج کی بنیاد پر کووِڈ-19 کے 958 نئے کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے بعد اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد 9000 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 2959 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔