.

ایرانی عالم دین کی کرونا کی اسرائیلی دوائی کے استعمال کی مشروط اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سرکردہ شیعہ عالم دین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے اسرائیل کی تیار کردہ دوائی صرف اسی صورت میں استعمال کی جا سکتی ہے کہ اگر اس بیماری کا اور کوئی علاج ممکن نہ ہو۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی عالم دین آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے کہا کہ سنا ہے کہ اسرائیل نے کرونا وائرس کی روک تھام اور علاج کے لیے دوائی تیار کی ہے۔ اگر اس دوائی کے علاوہ اس وباء کا کوئی علاج نہ تو اس صورت میں اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس بیماری کا کوئی دوسرا علاج موجود تو اسرائیلی دوائی کے استعمال کا کوئی جواز نہیں۔

خیال رہے کہ آیت اللہ مکارم شیرازی اپنی متنازع مذہبی آراء کی وجہ سے ایران میں کافی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا شمار اسرائیل کے سخت مخالفین میں ہوتا ہے۔

ایرانی اخبار'ھمدلی' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں آیت اللہ شیرازی نے کہا کہ اگر اسرائیل کرونا کا علاج دریافت کرتا ہے تو اسے صرف اسی صورت میں فایدہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ اس کا کوئی متبادل نہ ہو۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق آیت اللہ مکارم شیرازی نے حال ہی میں عوام سے کہا تھا کہ وہ کرونا سے بچنے کے لیے دعائے عاشورہ اور حدیث الکساء کا زیادہ سے زیادہ ورد کریں۔

تاہم علامہ شیرازی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ شیرازی کے حوالے سے من گھڑت باتیں اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان افواہوں کا مقصد علامہ شیرازی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں کرونا وائرس کی وباء پھیلنے کے باوجود مذہبی شدت پسندوں نے مذہبی مزارت کی زیارت پرپابندی کی مخالفت کی تھی۔