.

ایران میں کرونا سے ہلاکتیں، سیٹلائٹ تصاویر نے حقائق آشکار کر دیے

قم کے قبرستان میں 100 گز کی اجتماعی قبر کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں چند ہفتے قبل سامنے آنے والے کرونا وائرس نے قم شہر کو اپنی لیپٹ میں لیا۔ یہ وائرس ایران میں تیزی کے ساتھ پھیلاؤ اور آج اس نے ملک کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔

دوسری جانب ذرائع ابلاغ میں کرونا وائرس کے نتیجے میں قم میں ہلاکتوں کے باعث قبرستانوں میں غیرمعمولی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ قم شہر کے مرکزی قبرستان میں تیزی کے ساتھ قبروں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سیٹلائیٹس کے ذریعے قم شہر کے سب سے بڑے قبرستان میں نئی قبروں کی کھدائی کی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔

ایران کے دارالحکومت تہران سے 80 میل دور جنوب میں قم کے ایک قبرستان میں کھدائی کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ فروری کے آخر میں لی گئی تصاویر میں قبرستان میں 100 گز کی ایک بڑی خندق کھودی گئی ہے دیکھی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ خندق کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی اجتماعی تدفین کے لیے کھودی گئی ہے۔

ایران میں تیزی کے ساتھ پھیلتے کرونا وائرس پر جہاں ایک طرف عوام میں خوف ہے وہیں حکومت کی مجرمانہ غلفت کو بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ ایران کے ایک سینیر سیاسی رہ نما اور رکن پارلیمنٹ عبدالکریم حسین زادہ نے پورے قم شہر کو 'قرنطینہ' کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے کرونا کی روک تھام کے لیے قم میں بروقت کسی قسم کی مؤثر کوشش نہیں کی گئی جس کے باعث پورے شہر میں یا تو لاشیں بکھری پڑی ہیں یا لوگ بیمار ہیں۔

عبدالکریم حسین زادہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو کرونا کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر کرونا کی روک تھام نہیں کی جاتی تو ایران اس وباء سے سب سے زیادہ متاثرہ ہونے والا ملک بن سکتا ہے۔ انہوں نے قم کے علاقے رشت میں فوری اور ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

ادھر ایرانی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید 1075 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ مہلوکین کی تعداد 429 تک جا پہنچی ہے۔ ایران میں اس وقت پارلیمنٹ کے 20 سے زاید ارکان کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔