.

بیروت: ایرانی طیارے کے مسافروں میں کرونا وائرس کی جانچ کا انوکھا انداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بدھ کی شام لبنان میں بیروت کے ہوائی اڈے پر اُترنے والے طیارے کے مسافروں میں کرونا وائرس کے انکشاف کے لیے جانچ کا انوکھا انداز اختیار کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق لبنانی صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل کی جانے والی وڈیو میں لبنانی وزارت صحت کی طبی ٹیم تہران سے آنے والی آخری پرواز کے مسافروں کی جانچ کرتے ہوئے نظر آ رہی ہے۔ اس دوران ٹیم کے افراد نے تمام 105 مسافروں کی جانچ نہیں کی بلکہ مسافروں کو چھوڑ چھوڑ کر خصوصی آلے کے ذریعے ان کے درجہ حرارت کو نوٹ کیا۔ واضح رہے کہ ایران کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی بڑی تعداد سامنے آ چکی ہے۔

دوسری جانب بیروت کے ہوائی اڈے پر سیکورٹی ادارے کی کمان نے مطلوبہ طبی اقدامات میں غفلت یا تساہل برتنے کی تردید کی۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی تردید کی گئی کہ ایرانی طیارے کے مسافروں کو حفاظتی اقدامات کے بغیر بیروت ہوائی اڈے سے باہر لے جانے کے لیے کسی بی سیاسی جماعت کی سواریوں نے مداخلت کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں سرکاری وفود کو اس ایرانی طیارے کے مسافروں کو وصول کرنے کے لیے ہوائی اڈے پر پہنچے ہوئے دیکھا گیا۔

سیکورٹی ادارے کی کمان کے مطابق مذکورہ تصاویر بدھ کے روز وزیر زراعت عباس مرتضی کے بیروت ہوائی اڈے کے دورے کے موقع پر لی گئیں۔

ایرانی طیارے کے مسافروں کی بے ترتیبی کے ساتھ جانچ اور معائنے کے طریقہ کار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے پر مشتمل ردود فعل سامنے آئے ہیں۔ بعض لوگوں نے لبنان کے صدر اور وزیراعظم کو اس واقعے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ایرانی طیارے کو ہوائی اڈے پر اترنے سے روک دیا جاتا۔ لبنانیوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جن ممالک میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے وہاں سے طیاروں کی آمد کا سلسلہ روک دیا جائے۔

بعض دیگر حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس طبی ٹیم کے افراد کی سرزنش کی جائے جنہوں نے "غیر ذمے دارانہ" طریقے سے مسافروں کا معائنہ کیا۔ ان افراد نے سلامتی کے ادنی ترین معیار کی بھی پابندی نہیں کی۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اب تک ملک میں کرونا وائرس کے 61 کیس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے تین افراد کی زندگی کا چراغ گل ہو چکا ہے۔