.

سعودی عرب عالمی سطح پر تیل کی منڈی کی تشکیل نو کررہا ہے: ڈر اسپیگل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں سعودی عرب نے اچانک اعلان کیا کہ وہ تیل کی پیدوارا یومیہ بڑھا کر ایک ملین بیرل کرنا چاہتا ہے۔ سعودی عرب کے اس اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں دھڑام سے 30 ڈالر نیچے آ گئیں حالانکہ تیل کی قیمتیں پہلے خلیجی مارکیٹ میں مندی کی وجہ سے کم ہو چکی تھی۔

بدھ کے روز جب سعودی عرب نے اچانک تیل کی پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا تو اس وقت تقریبا آدھی دنیا کرونا کی وباء کا شکار ہوچکی تھی۔ یہ ممکن ہے کہ الریاض کی طرف سے تیل کی قیمتوں کے حوالے سے اٹھایا گیا اقدام عالمی سطح پر تیل کی مارکیٹ میں بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی کا نقطہ آغاز ہو۔

سعودی عرب کے لیے کرونا کی وبا اسٹریٹجک تدابیر اختیار کرنے کا بہترین موقع ہے۔عام حالات میں ایسا کوئی قدم اٹھانا خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اس سے عالمی معاشی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ سعودی عرب پوری دنیا میں اقتصادی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے ستون کا درجہ رکھتا ہے۔

اس کا بنیادی ستون سعودی عرب کی تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے کیوں کہ مملکت ان تیل برآمد کرنے والے چند ممالک میں سے ایک ہے جو ضرورت پڑنے پر پیداوار میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے۔ سعودی عرب دوسرے ممالک کو ایک خاص حد تک تیل کی سپلائی کرتا ہے۔

سعودی عرب کے پاس اضافی تیل کی صلاحیت دراصل عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر لیبیا میں خانہ جنگی اور ایران کو تیل فروخت کرنے پر پابندی کی وجہ سے عالم منڈی میں تیل کی پیداوار میں کمی بیشی کا براہ راست اثر سعودی عرب پر پڑے گا۔

سعودی عرب اس محفوظ ذخیرے کواپنے سخت ترین حریفوں کے امریکا اور روس کے خلاف مل کر استعمال کر رہا ہے۔

ابلاغی جنگ

پٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم "اوپیک" نے اس سے قبل گذشتہ ہفتے تیل کی پیدوار اور قیمتوں کے حوالے سے مذاکرات کیے جو کہ ناکام رہے۔ اوپیک میں سعودی عرب کو روس کے پلڑے کا تیل پیدا کرنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے۔ جب یہ مذاکرات ہو رہے تھے اس وقت دنیا کا ایک بڑا حصہ کرونا کی وباء کا شکار ہوچکا تھا۔ اس وبائی مرض کے پوری دنیا کی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو آ سکتا ہے۔ خاص طور پرعالمی سطح پر تیل کی کھپت اور طلب میں کمی کرونا کا لازمی نتیجہ ہے۔ تیل کی کھپت میں کمی قیمتوں میں کمی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

سعودی عرب یہ یقینی بنانا چاہتا تھا کہ اوپیک اور روس اجتماعی طور پر تیل کی پیداوار میں کمی لائیں تاکہ تیل کی عالمی فراہمی کو کم کیا جاسکے اور گرتی قیمتوں کے مقابلہ میں تعاون کیا جا سکے۔

تیل کی پیداوار میں کمی لانا بہتر ہے ، لیکن نکالے جانے والے تیل کو فروخت کرنا ہوگا اور یہی بہتر حکمت عملی ہے۔ یہ حکمت عملی اوپیک اور اس کے رکن روس نے تین سال تک استعمال کیا۔ عالمی سطح پر تیل کی منڈی میں سپلائی میں ہونے والے اضافے کو روکنا اچھی بات تھی۔

تیل کی پیدوارا اور کمی کا رجحان پچھلے ہفتے اس وقت سامنے آیا جب متعدد ممالک خاص طور پر روس نے مزید تیل کی قیمت کم کرنے سے انکار کردیا۔

روسیوں نے اس کی دلیل پیش کی کہ حالیہ برسوں میں فنڈنگ میں کٹوتیوں نےامریکا کی پوزیشن مستحکم کی ہے۔ امریکی کمپنیوں نے متنازعہ ہائیڈرولک فریکچر کا طریقہ استعمال کیا تاکہ مزید شیل تیل نکالا جا سکے اور عالمی منڈی میں زیادہ سے زیادہ حصص حاصل ہوں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب اس نکتے پر روس سے آگے ہے اور تیل کی منڈی میں قیمتوں میں جنگ بڑھا رہا ہے۔

روس اور سعودی عرب میں تیل کی کچھ تنصیبات میں پیداواری لاگت دس ڈالر سے بھی کم ہے۔ دوسری طرف امریکی ہائیڈرولک فریکچرنگ انڈسٹری کی تیاری کے اخراجات زیادہ ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح سے 159 لیٹر تیل کے ڈرم نکالنے میں 50 سے 70 ڈالر کے درمیان لاگت آتی ہے۔ کمپنیوں کو بھی سرمایہ کاروں کی تلاش میں پریشانی ہوتی ہے۔ لہذا تیل کی کم قیمتیں غیر مناسب وقت پر امریکی ہائیڈرولک فریکچرنگ انڈسٹری کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

گولڈ مین سیکس کے سینئر توانائی تجزیہ کار ڈیمین کوروالین نے سی این بی سی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب عالمی سطح پر تیل کی مارکیٹ کی تشکیل نو کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ تیل کی قیمت کئی مہینوں تک 30 ڈالر پر رہے گی اور اس میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ"آئی ایم ایف" کے تخمینے کے مطابق روسی حکومت کو اپنے بجٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے تیل کی قیمت کو 45 ڈالر تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

دونوں ممالک کے پاس سرمائے کے لیے محفوظ ذخائر ہیں۔ لہذا وہ کچھ وقت کے لیے کم قیمت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس کا جواب مالیاتی پالیسی کے حوالے سے ہے کیوں کہ مملکت میں اب پیداوار میں اضافے کی وجہ سے نمایاں طور پر مزید تیل برآمد ہورہا ہے۔

تاہم روس نہ صرف تیل کی قیمت میں کمی کا شکار ہے بلکہ اس کی روبل کرنسی کی گراوٹ کا بھی مسئلہ ہے۔ جنوری میں ایکسچینج آفس میں ایک یورو کے لیے شرح تبادلہ 68 روبل تھا اور فی الحال ایک یورو کے لیے 80 روبل سے زیادہ ہے۔

امریکا سب سے زیادہ نقصان میں

امریکی ہائیڈرولک فریکچرنگ انڈسٹری کا امکان ہے کہ اس عالمی معاشی کھیل میں سب سے زیادہ خسارہ امریکا کا ہوگا۔ اگر ریاض کے کھاتے کامیاب ہوجاتے ہیں تو جلد ہی امریکی تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور سعودی مارکیٹ کے حصص میں اضافہ ہوگا۔

جغرافیائی اور سیاسی اثرات

سیاسی طور پر یہ اچھی علامت نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ مشرق وسطی کے خطے کو پہلے سے کہیں زیادہ عرصے تک کم قیمت سے مزید عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑے۔

یہ خطہ تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرتا ہے اور اب دباؤ میں ہے۔

تیل برآمد کرنے والے دوسرے ممالک جیسے انگولا یا وینزویلا میں یہ بحران درحقیقت تیل کی کم قیمت کی وجہ سے بڑے سیاسی مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔