.

عراق میں التاجی کے اڈے پرایک اور راکٹ حملہ ، پینٹاگان کی کڑی جوابی کارروائی کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں پر حملے کا سخت جواب دیا جائے گا۔پینٹاگان کا اشارہ ہفتے کے روز عراق میں التاجی کے فوجی اڈے پر دوسرے حملے کی جانب تھا۔

پینٹاگان کے ترجمان جوناتھن ہوفمین نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے ذمے دار عناصر کے خلاف کڑی کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ "یہ ممکن نہیں کہ تم لوگ امریکی فوجی اہل کاروں کو حملہ کا نشانہ بنا کر زخمی کر دو اور پھر بچ کر نکل جاؤ ... ہم یقینا احتساب کریں گے۔‘‘

جوناتھن ہوفمین کے مطابق عراقی سیکورٹی فورسز نے اس حوالے سے کچھ گرفتاریاں کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکا التاجی کے فوجی اڈے پر ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ہونے والے دوسرے حملے کی تحقیقات میں مدد دے گا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ حالیہ راکٹ حملے میں زخمی ہونے والے تین امریکی فوجیوں میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ وہ بغداد میں فوجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

یاد رہے کہ ہفتے کے روز بغداد کے شمال میں واقع قصبے التاجی میں ایک عسکری کیمپ پر ایک بار پھر راکٹ حملہ کیا گیا تھا۔ کیمپ پر تیس سے زیادہ کاتیوشا راکٹ داغے گئے۔ عراقی وزارت دفاع کے مطابق اس حملے میں اس کے فوجی زخمی ہوئے جن میں بعض کی حالت نازک ہے۔

ابھی تک کسی گروپ نے التاجی کے اڈے پر حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔تاہم عراق کے ایران نواز عسکری گروپوں کو اس حملے کا مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ان گروپوں میں نمایاں نام عصائب اہل الحق اور عراقی حزب اللہ بریگیڈز کا ہے۔ یہ دونوں گروپ ماضی میں امریکی فوج کے ساتھ روابط رکھنے والے ہر فریق کو نشانہ بنانےکی دھمکی دے چکے ہیں۔