.

متحدہ عرب امارات کا کرونا کے اثرات سے نمٹنے کے لیےایک کھرب درہم کے امدادی پیکج کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے سنٹرل بینک نے قومی معیشت کی تحفظ ، صارفین اور کمپنیوں کے تحفظ کی کے لیے ایک سو ارب درہم مالیت کا ایک جامع معاشی تعاون کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ اقدام عالمی ادارہ صحت کی طرف سے کرونا کو عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔

طے شدہ مالیاتی امدادی منصوبے میں 50 ارب درہم تک کا کریڈٹ شامل ہے جو گارنٹی کے تحت ملک میں کام کرنے والے بینکوں کو صفر مارک اپ شرح پر قرضوں اور ایڈوانس کی شکل میں دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 50 ارب درہم بینکوں سے حاصل ہونے والے بچت اور دارالحکومت سے جاری کیا جائے گا۔

امارات کے مرکزی بنک کی طرف سے کل ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ملک کے بنکوں کے پاس کافی سرمایہ ہے۔ بینکوں کو کم سے کم ریگولیٹری ضروریات کےلیے اضافی رضاکارانہ سرمایہ برقرار رکھا جاتا ہے۔ بینکوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ قرض دینے کے مناسب معیار کو برقرار رکھیں گے اور اپنے تمام صارفین کے ساتھ منصفانہ سلوک کریں۔

بینک نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد ملک میں نجی شعبے کی تمام کمپنیوں اور انفرادی طورپر متاثرہ صارفین کو موجودہ قرضوں پر اصل ادائیگیوں سے عارضی چھوٹ کی فراہمی اور سہولیات فراہم کرنا ہے۔

مرکزی بینک کے بیان کے مطابق اس منصوبے میں حصہ لینے والے بینکوں کو 6 ماہ کی مدت کے لیے ان کی نجی شعبے کی کمپنیوں اور انفرادی ایجنٹوں کو عارضی طور پر چھوٹ دینے کے لیے مالی مدد کرنا ہوگی۔ انفرادی اور کارپوریٹ کلائنٹ "کوویڈ ۔19" وبا پھیلنے کی وجہ سے منافع کی کمی کے خطرات سے دوچار ہیں ، اور اس منصوبے کا مقصد صارفین کو معاونت فراہم کرانا ہے۔

بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ تمام بینکوں کو اضافی محفوظ سرمائے کے 60 فیصد کے برابر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

مرکزی بینک ان سرمائے کی رقم کو بھی بینکوں کو اپنے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو دیئے گئے قرضوں کے مقابلہ میں 15-25 فی صد تک کم کر دے گا۔