قُم میں توہّم پرستی کے ذریعے انسانی جانوں کو داؤ پر لگایا گیا : ایرانی خاتون رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران میں تہران سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن پارلیمنٹ پروانہ سلحشوری نے ملک میں کرونا وائرس کے گڑھ قُمشہر میں کیے جانے والے بعض اقدامات پر کڑی تنقید کی ہے۔ اسی طرح انہوں نے فضائی کمپنی "ماہان" پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے مذکورہ مہلک مرض کو پھیلانے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

پروانہ نے بحران کے آغاز کے بعد فوری طور پر قُم شہر پر قرنطینہ عائد نہ کرنے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں بعض ایسے لوگ ہیں جنہوں نے "توہم پرستی" کے ذریعے شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا۔

اتوار کے روز ایرانی اخبار "جہانِ صنعت" کو دیے گئے بیان میں پروانہ نے باور کرایا کہ "سرکاری ذمے داران اگر چاہتے تو اس بحران کے آغاز کے وقت سے ہی فوری طور پر قُم شہر پر قرنطینہ عائد کر دیتے تا کہ یہ وائرس بقیہ دیگر شہروں میں نہ پھیلے۔ تاہم انہوں نے ایسا کرنے کے بجائے حقیقت پر پردہ ڈالا"۔

یاد رہے کہ قُم میں کئی ذمے داران اور مذہبی شخصیات نے شہر پر قرنطینہ عائد کرنے کو یکسر مسترد کر دیا۔ یہاں تک کہ بعض مذہبی شخصیات نے تو لوگوں پر زور دیا کہ وہ مزارات کی زیارت کریں تا کہ اس مہلک وائرس کا راستہ روکا جا سکے۔

پروانہ سلحشوری نے مطالبہ کیا کہ ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کارپوریشن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس لیے کہ مذکورہ ادارے نے انتخابات سے قبل ملک میں کرونا وائرس کے پھیلنے کی خبر کو محض ایک "افواہ" قرار دیا تھا۔ ایرانی حکام نے پارلیمانی انتخابات کے دوران یہ موقف اپنایا کہ ملک میں کرونا وائرس کے حوالے سے جو کچھ پھیلایا جا رہا ہے اس کا مقصد محض لوگوں کو ووٹنگ میں شرکت سے روکنا ہے۔ اسی طرح ریاست کے بعض سینئر عہدے داران کا کہنا تھا کہ کرونا کے نام پر ملک میں خوف کی لہر دوڑانا یہ ایران پر کاری وار لگانے کے لیے بیرونی سازش ہے۔

ملک میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد بھی ایران کی ایک فضائی کمپنی ماہان کی جانب سے فضائی پروازوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اس پر پروانہ کا کہنا ہے کہ "یقینا ماہان ایئر اپنی مرتکب غلطیوں کے سبب اس وائرس کو پھیلانے کا مرکزی سبب ہے۔ اگر ملک میں عدلیہ کا وجود ہوتا تو اس کمپنی کو تحقیقات اور پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑتا"۔

یاد رہے کہ ایران نے کل اتوار کے روز کرونا کے سبب 113 اموات کا اعلان کیا تھا۔ یہ ملک میں کرونا کے پھیلنے کے بعد ایک دن کے اندر وفات پانے والے افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس طرح مذکورہ وبا کے نتیجے میں ایران میں اب تک کُل 724 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہانپور کے مطابق ملک میں کرونا کے 1209 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ اس طرح ایران میں کرونا سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 13938 تک پہنچ گئی۔ جہانپور کے مطابق کرونا کے کُل مریضوں میں سے 4590 افراد صحت یاب ہو کر ہسپتالوں سے رخصت ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں