.

مساجد میں با جماعت نماز روکنے کے فیصلے پر سختی سے عمل کرائیں گے: سعودی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منگل کو سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبد اللطیف آل الشیخ نے کہا ہے کہ الحرمین اشریفین کے سوا ملک کی دیگر تمام مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی پرپابندی کا فیصلہ انسانی جانوں کے تحفظ کے نقطہ نظر سے واجب ہے۔ اس پر فوری طورپر عمل درآمد کیا جائے گا۔

سعودی وزیر برائے مذہبی امورنے ٹیلیفون پر'العربیہ' چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نماز جمعہ کو روکنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی برادشت نہیں کریں گے۔ اس فیصلے کو پوری طرح نافذ کیا جائے گا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کی وباء سے ملک کو بچانے کے لیے اس سےبہتر اور مناسب اور کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ شہریوں کی جانوں کی حفاظت ہرچیز پرمقدم ہے۔

انہوں نے یہ کہا کہ مساجد میں صرف نماز کی اذان صرف دی جائے گی۔ شہری اپنے گھروں میں نمازیں ادا کریں۔ یہ عارضی پابندی ہے۔ اس پرعمل درآمد کرنا پڑے گا کسی کے لیے اسے ترک واختیار کے انتخاب کا موقع نہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز سعودی عرب کی حکومت نے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے علاوہ ملک کی دیگر تمام مساجد میں کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر با جماعت نمازوں کی ادائی عارضی طورپر معطل کردی تھی۔ اس فیصلے میں دیگر نمازوں کے ساتھ جمعہ کی نماز بھی شامل ہے۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں سعودی عرب میں گذشتہ روز کرونا وائرس کے مزید 38 مریضوں کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد مملکت میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 171 ہوگئی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت صحت کے مطابق کرونا کا شکار ہونے والے 6 افراد تندرست ہوچکے ہیں۔ دیگر کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔