مساجد میں با جماعت نماز روکنے کے فیصلے پر سختی سے عمل کرائیں گے: سعودی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

منگل کو سعودی عرب کے وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبد اللطیف آل الشیخ نے کہا ہے کہ الحرمین اشریفین کے سوا ملک کی دیگر تمام مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی پرپابندی کا فیصلہ انسانی جانوں کے تحفظ کے نقطہ نظر سے واجب ہے۔ اس پر فوری طورپر عمل درآمد کیا جائے گا۔

سعودی وزیر برائے مذہبی امورنے ٹیلیفون پر'العربیہ' چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نماز جمعہ کو روکنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی برادشت نہیں کریں گے۔ اس فیصلے کو پوری طرح نافذ کیا جائے گا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کی وباء سے ملک کو بچانے کے لیے اس سےبہتر اور مناسب اور کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ شہریوں کی جانوں کی حفاظت ہرچیز پرمقدم ہے۔

انہوں نے یہ کہا کہ مساجد میں صرف نماز کی اذان صرف دی جائے گی۔ شہری اپنے گھروں میں نمازیں ادا کریں۔ یہ عارضی پابندی ہے۔ اس پرعمل درآمد کرنا پڑے گا کسی کے لیے اسے ترک واختیار کے انتخاب کا موقع نہیں۔