.

کرونا وائرس سے پابندیاں، خلیجی فضائی کمپنیوں کو7 ارب ڈالر متوقع خسارے کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والے 'کرونا'وائرس نے فضائی کمپنیوں کے کاروبار کو غیرمعمولی نقصان سے دوچارکیا ہے۔ ایک رپورٹ کےمطابق خلیجی ممالک کی فضائی کمپنیوں کو متوقع طور پر7 ارب ڈالر خسارے کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فضائی سفر پرپابندیاں، ریزرویشن میں کمی، سیاحوں کی آمد ورفت کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں کے ٹھپ ہونے سے فضائی کمپنیوں کو غیرمعمولی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کرونا وائرس نے دنیا کی تمام ایئر لائنز کے لیے حقیقی نقصانات کا ایک طوفان برپا کردیا ہے۔ اس کی تباہ کاریاں خلیجی فضائی کمپنیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں۔

"انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن" آئی اے ٹی اے" نے رواں سال کے دوران ہوائی اڈوں پر کرونا وائرس کے اثرات کے بارے میں انتہائی مایوس کن توقعات کا اظہار کیا ہے۔

فضائی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ کام کرنے والے لاکھوں افراد کے بے روز گار ہونے کا اندیشہ ہے۔ صرف خلیجی ممالک کی فضائی کمپنیوں کی بندش سے تین لاکھ 47 ہزار افراد کی ملازمت ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔

"آئی اے ٹی اے" کے ذریعہ شائع کردہ معلومات کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے جنوری کے آخر سے مشرق وسطی میں 16 ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ کردی گئیں ۔سفری تحفظات اوراپنے ممالک سے باہر سفر سے اجتباب کی وجہ سے ہوا بازی کے شعبے کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

'آئی اے ٹی اے' کا کہنا ہے کہ متوقع کساد بازاری کے نتیجے میں مزید غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے جو مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف ممالک اٹھائیں گے۔ گذشتہ مہینوں کے مقابلے میں مارچ اور اپریل میں فضائی کمپنیوں کی پروازوں میں مزید 40 فی صد کمی ہونے کا امکان ہے۔