.

ایران حکام "ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز" تنظیم سے مدد طلب کر کے مُکر گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسا نظر آرہا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی تنظیم "ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز" کی پیش کردہ مدد مسترد کرنے کے پیچھے بہت زیادہ دباؤ کا ہاتھ ہے۔ فرانس کے اخبار ليبراسيون کے مطابق ایران نے حیران کن طور پر مذکورہ تنظیم کی جانب سے اصفہان شہر میں فیلڈ ہسپتال بنانے کی پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پیش کش کا مقصد کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ افراد کی علاج میں مدد کرنا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل ایرانی حکام کی جانب سے ہسپتال تعمیر کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

ادھر "ايران انٹرنیشنل" نیٹ ورک نے بھی ایسی دستاویزات جاری کی ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکام نے ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز تنظیم سے مدد کی درخواست کی تھی۔

ایک دستاویز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران نے مذکورہ تنظیم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مغربی ایران میں ایک فیلڈ ہسپتال قائم کرے۔ تاہم تنظیم کی یہ سرگرمی روک دی گئی اور حکومت اپنی درخواست سے پیچھے ہٹ گئی۔ ایران انٹرنیشنل کے مطابق پیچھے ہٹ جانے کا فیصلہ ممکنہ طور پر ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ کی جانب سے کرونا وائرس کے حوالے سے نظریہِ سازش پیش کرنے کے بعد کیا گیا۔

دوسری جانب فرانسیسی اخبار نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ ایرانی حکومت کی رائے میں یہ اچانک تبدیلی تنظیم کے ساز و سامان اور لوازمات کے پہنچنے کے بعد سامنے آئی جب کہ رواں ماہ کے آغاز میں ایرانی حکومت اس پر آمادگی کا اظہار کر چکی تھی۔

اخبار کے مطابق 9 فرانسیسیوں پر مشتمل تنظیم کی طبی ٹیم کو ویزے جاری کیے گئے تھے۔ یہ لوگ تہران کے ہوائی اڈے پر اترے اور پھر اصفہان میں اپنے مشن کے حوالے سے سروے کا آغاز کر دیا۔ اگلے روز تہران کے ہوائی اڈے پر پہلا کارگو طیارہ اترا۔ یہ طیارہ فرانس کے شہر بورڈو سے آیا تھا۔

اسی طرح فرانس میں ایران کے سفیر بہرام قاسمی نے بھی ٹویٹر پر ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز تنظیم کے مشن کے آغاز کا اعلان کیا۔ تاہم پیر کے روز ایرانی وزارت صحت کے حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد وزارت صحت کی جانب سے شکریہ ادا کرتے ہوئے تنظیم کو آگاہ کیا گیا کہ اب اس کی جانب سے مدد کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

بعد ازاں ایرانی وزارت صحت کے ترجمان کی زبانی یہ موقف سرکاری طور پر بھی سامنے آ گیا۔

دوسری جانب ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز تنظیم کے ہنگامی پروگرام کے سربراہ میشیل اولیووے نے ایران کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اس کے مطابق عمل کریں گے ،،، البتہ ہم اس کو سمجھ نہیں سکے"۔ میشیل نے مزید کہا کہ "ہم اس ہسپتال کو خطے میں کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ... اگر ایرانی حکام نے اپنا موقف تبدیل کیا تو ہم ایک بار پھر ایران میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں"۔

واضح رہے کہ ایرانی سیکورٹی ادارے اور پاسداران انقلاب عام طور سے ملک میں کسی بھی غیر ملکی وجود یہاں تک کہ بین الاقوامی انسانی تنظیموں کی موجودگی کو بھی مسترد کرتے ہیں۔

اسی وجہ سے ایران میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کی تعداد بہت کم ہے۔