.

کرونا کے مریضوں کی ناکوں میں "معجزاتی خوشبو" ڈالنے والا نام نہاد معالج فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی میڈیا کے مطابق تیل کے ذریعے کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کا دعوی کرنے والی مذہبی شخصیت کے فرار ہو جانے پر ملکی حلقوں اور سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے مرتضی کوہنسال نامی شخص کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ خود کو "طبّ اسلامی" کی طرف منسوب کرنے والا یہ شخص ہسپتالوں میں جا کر کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کو بعض "معجزاتی دوائیں" دیا کرتا تھا۔ شمالی ایران کے شہر انزالی میں جنرل پراسیکیوٹر نے انکشاف کیا کہ یہ گرفتاری کا وارنٹ اس شخص کے خلاف جاری کیا گیا ہے جس نے متعدد مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

کوہنسال نے اپنی جانب سے دی جانے والی دوا کو "نبی کے عطر" کا نام دے رکھا تھا۔ اس کا دعوی تھا کہ یہ طریقہ علاج اسے پیغمبر کی جانب سے عطا کیا گیا ہے۔

مذہبی شخصیت کا روپ دھارے سے بہروپیے نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو بھی جاری کی۔ وڈیو میں وہ ایک ہسپتال میں موجود مریضوں کے چہرے سے ماسک ہٹا کر ان کی ناک کے نیچے اپنی خوشبو رگڑتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کا دعوی تھا کہ اس طرح یہ لوگ چھینکیں گے اور انہیں وائرس سے شفا مل جائے گی۔

سوشل میڈیا پر "ایران میں طبّ اسلامی کا باوا" کے نام سے مشہور ایک دوسرے شخص نے گذشتہ ہفتے اسی طرح کا دعوی کیا تھا۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ صبح کے اوقات میں کانوں میں "کڑوے کریلے کا تیل" ٹپکانے سے انسان کرونا وائرس سے محفوظ رہے گا۔

عالمی ادارہ صحت چند روز قبل کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دے چکا ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں اب تک کرونا وائرس سے واقع ہونے والی اموات کی تعداد 1934 ہو گئی ہے۔ ملک میں اس جان لیوا وائرس کے 24811 کیس سامنے آ چکے ہیں۔