.

شہروں میں داخلے پر پابندی کی نگرانی سیکورٹی کنٹرول کے مراکز کریں گے: سعودی وزارت داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں وزارت داخلہ نے مملکت کے شہروں میں کرفیو اور شہروں میں داخلے پر پابندی سے متعلق فیصلے کی تفصیلات بتائیں۔

اس سلسلے میں بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں وزارت داخلہ کے سرکاری ترجمان طلال الشلہوب نے باور کرایا کہ علاقوں میں آمد و رفت روکنے کی ذمے داری سیکورٹی کنٹرول کے مراکز کے پاس ہو گی۔

ترجمان کے مطابق سعودی عرب کے تین شہروں ریاض، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں داخل ہونے اور وہاں سے باہر آنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ الشلہوب نے زور دیا کہ کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کرفیو کے پلان پر عمل درامد یقینی بنایا جائے۔ ترجمان نے باور کرایا کہ کرفیو کا نفاذ جمعرات کی سہ پہر 3 بجے سے ہو گا۔

ادھر سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزيز نے بدھ کے روز کرونا وائرس سے بچاؤ کے سلسلے میں مزید حفاظتی اقدامات کی منظوری دی۔ سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) نے ٹویٹر پر بتایا کہ شہریوں اور غیر ملکی مقیمین کی صحت و سلامتی کے لیے ریاض، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں کرفیو کا وقت اب سہ پہر تین بجے سے شروع ہوا کرے گا۔

اس سے قبل پیر کے روز شاہ سلمان کی جانب سے جاری فرمان میں شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک کے لیے کرفیو کے نفاذ کا حکم دیا گیا تھا۔

اقدامات کی تفصیلات درج ذیل ہیں :

1 ۔ مملکت کے تمام 13 صوبوں کے لوگوں کے لیے اپنے صوبے سے نکلنا یا کسی دوسرے صوبے میں جانا ممنوع ہو گا۔

2 ۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے متعین کردہ حدود کے مطابق تین شہروں (رياض، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) میں داخل ہونے اور وہاں سے باہر آنے پر پابندی ہو گی۔

3 ۔ کرفیو کے آغاز کا وقت جمعرات 26 مارچ کو سہ پہر 3 بجے سے ہو گا۔

4 ۔ مستثنی قرار دیے جانے والے طبقوں اور افراد پر نقل و حرکت کی پابندی عائد نہیں ہو گی۔