.

ایران: کرونا وائرس کے خوف سے ایک اور جیل میں بغاوت، 80 قیدی فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک وڈیو کلپ میں ایران کے مغربی صوبے کردستان میں ایک جیل سے درجنوں قیدیوں کے فرار کا منظر دکھایا گیا ہے۔ یہ واقعہ جمعے کے روز سقّز شہر میں پیش آیا۔ کرونا وائرس کے خوف سے گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ایرانی جیلوں میں قیدیوں کی جانب سے بغاوت کا یہ چوتھا واقعہ سامنے آیا ہے۔ مذکورہ خوف کی وجہ جیلوں میں کئی قیدیوں کا کرونا وائرس سے متاثر ہو کر وفات پانا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی مقرب "فارس" نیوز ایجنسی کے مطابق مصدقہ معلومات ہیں کہ جمعے کی شام ہونے والی بغاوت کے دوران 80 قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ نیوز ایجنسی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ فرار ہونے والے بعض قیدی شہریوں کی مرضی یا زبردستی اُن کی گاڑیوں میں سوار ہو کر جیل سے دور چلے گئے۔ اس دوران قیدیوں کا دوسرا حصہ جیل کے اطراف تنگ گلیوں سے گزر کر مرکزی شاہ راہوں میں داخل ہو گیا۔ یہ لوگ شہر میں روپوش ہونے میں کامیاب رہے۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران تبریز، خرم آباد اور اولیگودارز کی جیلوں میں بھی اسی نوعیت کی بغاوت دیکھنے میں آئی۔

یاد رہے کہ ایرانی عدلیہ 2.8 لاکھ قیدیوں میں سے تقریبا 85 ہزار کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے اندیشے کے سبب چھٹی دے چکی ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کی اپیلوں کے باوجود سیاسی قیدیوں کی اکثریت کو اس فیصلے سے مستثنی رکھا گیا۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے جمعرات کے روز ایرانی عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی کے نام ایک خط میں اپیل کی۔ تنظیم نے کہا کہ ایرانی حکام پر لازم ہے کہ وہ جیلوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر تمام ضمیر کے قیدیوں کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کریں۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل "ضمیر کے قیدی" کی اصطلاح اُن افراد کے لیے استعمال کرتی ہے جو آزادی اظہار کے جرم میں قید ہوتے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ حکام کو تمام قیدیوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ جلد از جلد زیر حراست افراد کو رہا کرنے کا سوچے۔ بالخصوص وہ قیدی جن کو شدید نوعیت کے امراض یا موت کا سامنا ہے۔

تنظیم کے مطابق اسے کرونا کے پھیلاؤ کے سبب بعض قیدیوں کی رہائی کے لیے ایرانی حکام کے اعلان کردہ اقدامات کا علم ہے۔ تاہم وہ ضمیر کے سیکڑوں قیدیوں کے جیل میں موجودگی کے حوالے سے تشویش محسوس کر رہی ہے۔ ان افراد میں انسانی حقوق کا دفاع کرنے والے، پُر امن مظاہرین اور دیگر زیر حراست افراد شامل ہیں جنہوں نے محض آزادی اظہار کے حق کا پر امن طور پر استعمال کیا تھا۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اور ایران میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان کی رپورٹوں کی بنیاد پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایرانی حکام جیلوں میں موجود قیدیوں کو کرونا وائرس سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے کیے گئے اقدامات مطلوبہ عالمی معیار سے کافی حد تک کم تر ہیں۔