ایرانیوں کی ترکی میں جائیدادیں اور شہریت، پابندیوں کے خلاف ایران کا نیا حربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے بہت سے ایرانی شہری ملک میں ابتر معاشی حالات اور مستقبل کےحوالے سے مایوس افراد ترکی میں دھڑا دھڑ جائیدادیں خرید کرنے کے ساتھ ساتھ ترکی کی شہریت حاصل کررہےہیں۔ دوسری طرف ایرانی رجیم تہران پرعاید کردہ پابندیاں ختم کرنے کے لیے اس رجحان سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

برطانوی اخبار "دی ٹائمز" کے مطابق ایرانیوں کی ترکی کی طرف بڑھتی نقل مکانی ایرانی حکومت کے منصوبوں کے عین مطابق ہے۔ ایرانی حکومت شہریوں کی نقل مکانی کو پابندیوں کی خلاف ورزی کے ایک حربے کے طور پراستعمال کررہی ہے۔ عالمی سطح پر ایرانی بنکوں کے بائیکاٹ کے باعث ترکی میں ایرانی شہری ترکی کے بنکوں کو رقوم کی منتقلی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح استنبول کے نیٹ ورک کے پاس جمع ہونےوالی رقم ایران آسانی کے ساتھ منتقل ہوجاتی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس طرح سے سرحد پار منتقلی کسی قواعد و ضوابط کے بغیر کی جارہی ہے مگر امریکی وزارت خزانہ نے اس پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔

استنبول میں ایرانی دفاتر بھی ایرانی بینکوں سے منسلک ہیں۔ ان میں ایرانی صارفین کے کھاتوں میں کٹوتی کی جاتی ہے اور نقد رقم کے برابر کمیشن کی چھوٹ دی جاتی ہے۔ اس طرح ایرانی بینک ان بڑے کمیشنوں کے ذریعہ بہت زیادہ رقم داخل کرسکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ اگست میں ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی "ارنا" نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ 6 مہینوں کے اندر ترکی میں ایرانی امیگریشن کی شرح میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت تک ایرانی سرمایہ کاروں نے 550 ملین امریکی ڈالر کی قیمت پر ترکی میں 2،200 جائیدادیں خریدی تھیں۔

منافع کی منتقلی

دفاتر میں رقوم لانے اور انہیں ایران منتقل کرنے کے لیے بیرون ملک ایرانی کمپنیاں اپنا منافع غیر ملکی کرنسیوں سےایرانی ریال میں منتقل کردیتی ہیں۔ اس طرح وہ کمپنیاں اور افراد ایرانی حکومت کی طرف سے عاید کردہ بھاری بھرکم ٹیکسوں سے بھی بچ جاتے ہیں۔

اخبار 'دی ٹائمز' کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ استنبول میں تقسیم اسکوائر آس پاس منی چینجر کمپنیاں سیاحوں اور ایرانی شہریوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہیں۔ اس وقت ترکی میں ایرانیوں کی تعداد 67 ہزار سے زیادہ ہے۔

خیال رہے کہ ترک حکومت نے سنہ 2017ء میں ترکی کی شہریت کےلیے ایک نیا پروگرام پیش کیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت ترکی میں ایک ملین ڈالر کی جائیداد خریدنے یا اتنی رقم کی سرمایہ کاری پر ترکی کی شہریت دینے کا اعلان کیا تھا۔ سنہ 2018ء میں ترکی میں شہریت کے لیے اڑھائی لاکھ ڈالر کی رقم مقرر کی گئی تھی۔ ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے ایک بیان میں بتایا کہ سرمایہ کاری کے بدلے شہریت کے پروگرام کے تحت 25 ہزار افراد نے ترکی کی شہریت حاصل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں