ایرانی جیلوں میں قیدیوں کی بغاوت جاری، اہواز جیل میں فائرنگ کا واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں پھیلنے والی کرونا کی وباء کے نتیجے میں جہاں بڑے پیمانے پر جانوں کا ضیاع ہوا ہے وہیں ایرانی جیلوں میں قیدیوں کی طرف سے بغاوت کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ایرانی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صوبہ اھواز میں قائم 'سبیدار' نامی جیل میں قیدیوں کی بڑی تعداد نے بغاوت کی ہے جب کی جیل میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایرانی سماجی کارکنوں نے ایک فوٹیج پوسٹ کی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ فوٹیج سبیدار جیل میں ہونے والی بغاوت کی ہے جہاں فائرنگ بھی کی گئی ہے۔

دریں اثنا ، ایرانی نیوز ایجنسی "ارنا" نے اھواز میں داخلی سیکیورٹی فورسز کے سربراہ حیدر عباس زادہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ متعدد قیدیوں نے جیل میں آگ لگا کر بغاوت کی کوشش کی لیکن سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے مداخلت کر کے اسے بغاوت کو ناکام بنا دیا۔

عباس زادہ جیل سے قیدیوں کے فرار کی اطلاعات کو مسترد کردیا اور کہا کہ جیل میں قیدیوں نے بغاوت کے دوران آگ لگائی تھی مگر کوئی قیدی فرار نہیں ہو سکا ہے۔ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔

اہواز شہر کے جنوب مشرق میں قائم اسبیدار جیل میں ہزاروں افراد کو قید کیا گیا ہے۔ ان میں عرب سیاسی قیدی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ خواتی، انسانی حقوق کے کارکن اور دیگر شہری شامل ہیں قیدیوں کو اعتراف جرم کے لیے بدترین جسمانی اور نفسیاتی اذیتیں دی جاتی ہیں۔

اہواز میں انسانی حقوق کی تنظیم نےبتایا کہ اہواز کی سینٹرل جیل میں سیکڑوں سیاسی قیدی بھی شامل ہیں۔ قیدیوں کی بغاوت کے خوف سے بڑی تعداد میں سیکیورٹی فورس تعینات کی گئی ہے۔

تنظیم نے بتایا کہ تین سیاسی قیدی مہدی بحری ، میلاد بغلانی اور حمید رضا مکی کرونا کا شکار ہوچکے ہیں جس کے باعث دیگر قیدیوں میں بھی اس وباء کے پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں