شام :جنگ زدہ ادلب میں لاکھوں افراد کے لیے کرونا وائرس کی صرف ایک ٹیسٹنگ مشین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں حزب اختلاف کے مسلح جنگجوگروپوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبہ ادلب اور اس کے نواحی علاقوں میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے صرف ایک مشین کام کررہی ہے اور اس وقت پچاس لاکھ سے زیادہ آبادی کے لیے صرف دو ہزار ٹیسٹ کٹیں دستیاب ہیں۔

ادلب میں اسپتال پہلے ہی مریضوں سے بھرے پڑے ہیں،اس صوبے میں اگر کرونا وائرس کی وَبا پھیلتی ہے تو اس کے مریضوں کو بچانے کے لیے ضروری سامان اور آلات اسپتالوں میں دستیاب نہیں ہیں۔

ادلب سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی براہیم ادلبی نے بتایا ہے کہ صوبہ میں اب تک صرف تین قرنطینہ مرکز قائم کیے گئے ہیں۔اگر کرونا وائرس کی وَبا پھیلتی ہے تو ہم اس سے مقابلے کی سکت نہیں رکھتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس صرف 130 ایمبولینس گاڑیاں ہیں،500 ڈاکٹر کام کررہے ہیں،بستروں، ادویہ ، طبی سامان اور وینٹی لیٹرز کی شدید قلّت ہے۔

ایک ویب گاہ ریلیف کے مطابق اس صوبے اور اس کے نواح میں واقع علاقوں میں 84 مراکزِصحت یا اسپتالوں کو لڑائی میں جزوی نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل تباہ ہوچکے ہیں، صدر بشار الاسد کی وفادار فوج بڑے منظم انداز میں ان اسپتالوں کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتی رہی ہے۔ادلب میں واقع 90 سے زیادہ مراکز صحت میں دائمی امراض کے علاج کے لیے ادویہ نہیں ہیں۔

ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اگر اس گنجان آباد صوبہ میں کرونا کا مہلک وائرس پھیلتا ہے تو اس سے بیس سے تیس لاکھ تک افراد متاثر ہوسکتے ہیں اور تین سے ساڑھے چار لاکھ تک افراد کو علاج کی ضرورت پیش آئے گی۔ایک سے ڈیڑھ لاکھ تک افراد کو اسپتال میں داخل کرنا پڑے گا لیکن اتنی زیادہ تعداد کو مراکز صحت یا اسپتالوں میں داخل نہیں کیا جاسکے گا۔

علاج معالجے کے وسائل کی عدم دستیابی کے علاوہ صوبے میں غربت ، بے روزگاری اور صحت وصفائی کے پست معیار کی وجہ سے بھی یہ مہلک وائرس بڑی تیزی سے پھیل سکتا ہے اور سرحدپار علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

ایک تحقیقاتی ادارے عمران دراسات کی رپورٹ کے مطابق ادلب اور اس کے نواحی علاقوں کی 75 فی صد آبادی بے روزگار ہے۔ان میں 80 فی صد خطِ غُربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔

فرانس میں قائم ڈاکٹروں کی تنظیم طبیبان ماورائے سرحد ( ایم ایس ایف) نے خبردار کیا ہے کہ اگر ادلب میں کرونا وائرس پھیلتا ہے تو اس سے ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے،اس کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں بالخصوص تیزی سے یہ وائرس پھیل سکتا ہے مگر ادلب کے پاس اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے وافر وسائل نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں