.

ایرانی جیلوں میں کشیدگی، اھواز سینٹرل جیل میں فائرنگ اور قیدیوں کی دوبارہ بغاوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جیلوں میں کرونا کی وباء کی وجہ سے قیدیوں میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔ وہ اپنے غصے کے اظہار کے لیے جیلوں میں بغاوت اور احتجاج کی کوشش کررہےہیں۔ دوسری طرف ایرانی حکام قیدیوں کو طاقت کے ذریعے احتجاج سےروکنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔

ایران سے ایک ذمہ دار اور باثوق ذریعے نے العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں کو بتایا کہ ایران کے عرب اکثریتی صوبہ الاھواز میں قائم سینٹرل جیل میں کل منگل کو قیدیوں نے ایک بار پھر احتجاج کیا۔ یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب قیدیوں کی بڑی تعداد نے کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر اپنی رہائی کا مطالبہ کیا۔

ذرائع نےبتایا کہ قیدیوں نے اھواز سینٹرل جیل کے وارڈ چھ، سات، نو اور 10 میں آگ لگا دی۔ اس پر اسرائیلی پولیس نے قیدیوں پر فائرنگ کی اور ان پر آنسوگیس کے شیلنگ کی گئی۔

اھواز میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کے مطابق سبیدان جیل میں قیدیوں نے بغاوت اس وقت کی جب کرونا کی وجہ سے قیدیوں کی سزا معاف کرنے اور ان کی رہائی کے لیے کیے گئے مطالبات نظرانداز کردیے گئے۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق ایمبولینسوں پر جیل میں بغاوت کے دوران زخمی ہونے والے قیدیوں کو اسپتال لے جاتے دیکھا گیا ہے۔ جیل کو تمام اطراف سے پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے بھی گھیرے میں لے رکھا ہے۔

دو روز قبل اھواز کی سینٹرل جیل میں ہونے والی بغاوت سے قبل تین قیدی مہدی بحری، میلاد بغلانی اور حمید رضا کرونا کا شکار ہوچکے تھے۔