حوثیوں کے نشانچی کا ایرانیوں کے ہاتھوں تربیت حاصل کرنے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن کے مغربی ساحل کے علاقے میں مشترکہ افواج کے ہاتھوں پکڑے جانے والے حوثیوں کے ایک نشانچی نے ضمنی طور پر اعتراف کیا ہے کہ اس نے ایرانی تربیت کاروں کے ذریعے تربیت حاصل کی۔ مذکورہ نشانچی کا نام عمر محمد صالح المرانی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ "تربیت کار افراد غیر ملکی زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں اور اسی طرح لبنانی حزب اللہ کے ارکان بھی"۔

المرانی نے انکشاف کیا ہے کہ اسے ایک گروپ میں شامل کر کے محض چند روز کی تربیت دے کر ڈیتھ بریگیڈ کے نام سے لڑائی میں فرنٹ لائن میں دھکیل دیا گیا۔ نشانچی کو مطلوبہ سطح کی تربیت نہیں ملی۔

المرانی یمن کے صوبے الحدیدہ کے ضلع التحیتا میں پہاڑی علاقے سے پکڑا گیا تھا۔

حوثی نشانچی نے ایک وڈیو کلپ میں تصدیق کی ہے کہ التحیتا ضلع کے مختلف محاذوں پر اس کے ساتھی نشانچیوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔

المرانی کے مطابق حوثی ملیشیا "بہادری کے کیپسول" کا سہارا لیتی ہے۔ یہ اپنے عادی افراد کے احساسات و شعور کو معطل کر دیتا ہے اور وہ اپنے انجام سے بے خبر لڑائی کی کارروائیوں میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔

المرانی نے تسلیم کیا کہ بارودی سرنگیں بچھانے والی ٹیموں کو حوثی ملیشیا کی جانب سے سب سے زیادہ توجہ حاصل ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں